حدیث نمبر: 3872
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ عُيَيْنَةَ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ ثَعْلَبَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اللَّهُمَّ أَنْتَ رَبِّي لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ , خَلَقْتَنِي وَأَنَا عَبْدُكَ , وَأَنَا عَلَى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ , أَعُوذُ بِكَ مِنْ شَرِّ مَا صَنَعْتُ , أَبُوءُ بِنِعْمَتِكَ وَأَبُوءُ بِذَنْبِي , فَاغْفِرْ لِي فَإِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ " , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَهَا فِي يَوْمِهِ وَلَيْلَتِهِ فَمَاتَ فِي ذَلِكَ الْيَوْمِ أَوْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ , دَخَلَ الْجَنَّةَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء بنعمتك وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» ” اے اللہ ! تو ہی میرا رب ہے ، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے ، تو نے ہی مجھے پیدا کیا ، میں تیرا ہی بندہ ہوں ، اپنی طاقت بھر میں تیرے عہد و وعدہ پر قائم ہوں ، اپنے کئے ہوئے کے شر سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں ، مجھے تیرے احسانات اور اپنے گناہوں کا اعتراف ہے ، میری بخشش فرما ، بلاشبہ تو ہی گناہوں کو بخشنے والا ہے “ ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو کوئی شخص دن اور رات میں یہ دعا پڑھے ، اور اسی دن یا اسی رات اس شخص کا انتقال ہو جائے ، تو ان شاءاللہ وہ جنت میں داخل ہو گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3872
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأدب 110 ( 5070 ) ، ( تحفة الأشراف : 2004 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/356 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 5070

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´صبح شام کیا دعا پڑھے؟`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء بنعمتك وأبوء بذنبي فاغفر لي فإنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اے اللہ! تو ہی میرا رب ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو نے ہی مجھے پیدا کیا، میں تیرا ہی بندہ ہوں، اپنی طاقت بھر میں تیرے عہد و وعدہ پر قائم ہوں، اپنے کئے ہوئے کے شر سے میں تیری پناہ چاہتا ہوں، مجھے تیرے احسانات اور اپنے گناہوں کا اعتراف ہے، میری بخشش فرما، بلاشبہ تو ہی گناہوں کو بخشنے والا ہے ، رسول اللہ صلی اللہ علی۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3872]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس دعا کو ر سول اللہ ﷺ نے ’’سید الاستغفار‘‘ یعنی استغفار کا سردار قرار دیا ہے۔ (صحیح البخاري،  الدعوات، باب أفضل الاستغفار، حدیث: 6306)

(2)
اللہ تعالیٰ سے گناہوں کی معافی مانگنے کےلئے یہ سب سے افضل دعا ہے۔
کیونکہ اس میں اللہ کی ذات پراعتماد وتوکل اس کی ربوبیت اور اپنی بندگی کا اظہار اللہ کی نعمتوں کا اقرار اور اپنی کوتاہیوں کا اعتراف اور اس کے ساتھ ساتھ اس کی اطاعت پر قائم رہنے کے عزم کا اظہار ہے۔

(3)
صحیح بخاری کی مذکورہ بالاروایت میں (موقناً بھا)
کے الفاظ بھی ہیں یعنی جو شخص دل کے یقین کے ساتھ یہ دعا پڑھے پھر وہ اسی رات یا دن میں فوت ہوجائے تو جنت میں جائے گا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3872 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5070 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´صبح کے وقت کیا پڑھے؟`
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص صبح کے وقت یا شام کے وقت کہے: «اللهم أنت ربي لا إله إلا أنت خلقتني وأنا عبدك وأنا على عهدك ووعدك ما استطعت أعوذ بك من شر ما صنعت أبوء بنعمتك وأبوء بذنبي فاغفر لي إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت» اے اللہ! تو میرا رب ہے، تیرے سوا میرا کوئی معبود برحق نہیں ہے، تو نے ہی مجھے پیدا کیا ہے، میں تیرا بندہ ہوں، میں تیرے ساتھ اپنے اقرار پر قائم ہوں اور تیرے وعدے پر مضبوطی سے طاقت بھر جما ہوا ہوں، اس شر سے جو مجھ سے سرزد ہوئے ہوں تیری پناہ چاہتا ہوں، تیری نعمتوں کا اقرار کرتا ہوں اور اپنے گناہوں ک۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5070]
فوائد ومسائل:
اس مبارک دعا کو سید الاستغفار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، کیونکہ ا س میں بندے کی طرف سے اللہ رب العالمین کے کمال عظمت وجلال کے اقرار کے ساتھ اپنی انتہائی عاجزی اور بندگی کا اظہار ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5070 سے ماخوذ ہے۔