حدیث نمبر: 387
حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ أَبِي سَهْلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنِ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ مَخْشِيٍّ ، عَنِ ابْنِ الْفِرَاسِيِّ ، قَالَ : " كُنْتُ أَصِيدُ ، وَكَانَتْ لِي قِرْبَةٌ أَجْعَلُ فِيهَا مَاءً ، وَإِنِّي تَوَضَّأْتُ بِمَاءِ الْبَحْرِ ، فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ " هُوَ الطَّهُورُ مَاؤُهُ الْحِلُّ مَيْتَتُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابن الفراسی کہتے ہیں کہ` میں شکار کیا کرتا تھا ، میرے پاس ایک مشک تھی ، جس میں میں پانی رکھتا تھا ، اور میں نے سمندر کے پانی سے وضو کر لیا ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اس کا پانی پاک ہے ، اور پاک کرنے والا ہے ، اور اس کا مردار حلال ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 387
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح لغيره , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, مسلم بن مخشي مجھول الحال, لم يوثقه غير ابن حبان والحديث السابق (الأصل: 386) يغني عنه, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 391
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15525 ، ومصباح الزجاجة : 159 ) ( صحیح ) » ( مسلم بن مخشی نے فراسی سے نہیں سنا ، ابن الفراسی سے سنا ہے ، اور ابن الفراسی صحابی نہیں ہیں ، اور دراصل یہ حدیث ابن الفراسی نے اپنے باب فراسی سے روایت کی ہے ، جو لگتا ہے کہ اس طریق سے ساقط ہو گئے ہیں ، لیکن سابقہ حدیث سے تقویت پاکر یہ صحیح ہے )