حدیث نمبر: 3862
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ , عَنْ هِشَامٍ الدَّسْتُوَائِيِّ , عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ , عَنْ أَبِي جَعْفَرٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ثَلَاثُ دَعَوَاتٍ يُسْتَجَابُ لَهُنَّ لَا شَكَّ فِيهِنَّ : دَعْوَةُ الْمَظْلُومِ , وَدَعْوَةُ الْمُسَافِرِ , وَدَعْوَةُ الْوَالِدِ لِوَلَدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں : مظلوم کی دعا ، مسافر کی دعا ، والد ( اور والدہ ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3862
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 364 ( 1536 ) ، سنن الترمذی/البروالصلة 7 ( 1905 ) ، ( تحفة الأشراف : 14873 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/258 ، 348 ، 478 ، 517 ، 523 ) ( حسن ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 1905 | سنن ترمذي: 3448 | سنن ابي داود: 1536

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ماں باپ کی دعا اولاد کے لیے اور مظلوم کی دعا کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تین دعائیں ہیں جن کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: مظلوم کی دعا، مسافر کی دعا، والد (اور والدہ) کی دعا اپنی اولاد کے حق میں۔‏‏‏‏" [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3862]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مظلوم تنگ آکر ظالم کو جو بد دعا دیتا ہے وہ ضرور قبول ہوتی ہے۔
اس لئے کسی انسان یا حیوان پر ظلم کرنے سے ہمیشہ بچنا چاہیے۔

(2)
بعض اوقات کسی حکمت کی بنا پر مظلوم کی دعا کی قبولیت میں دیر ہوسکتی ہے۔
اس صورت میں صبر کرنا چاہیے صبر سے درجات بلند ہوتے ہیں۔
نیز مصیبت اور تکلیف کے وقت صبرکرنے سے اللہ تعالیٰ کی معیت حاصل ہوتی ہے۔

(3)
والد اور والدہ دونوں کی دعایئں قبول ہوتی ہیں۔
اس لئے انھیں خوش رکھنا چاہیے۔
اور خدمت کا کوئی موقع ضائع نہیں کرنا چاہیے۔
ان سے نا مناسب سلوک کرنا بد زبانی کرنا جب انھیں خدمت کی ضرورت ہو تو خدمت نہ کرنا ان کی ضروریات کا خیال نہ رکھنا ان کی دل شکنی کا باعث ہوتا ہے۔
جس کے نتیجے میں ان کے منہ سے بد دعا نکل سکتی ہے جو یقیناً قبول ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3862 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1536 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´اپنے مسلمان بھائی کے لیے غائبانہ دعا کرنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تین دعائیں ضرور قبول ہوتی ہیں، ان کی قبولیت میں کوئی شک نہیں: باپ کی دعا، مسافر کی دعا، مظلوم کی دعا۔‏‏‏‏" [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1536]
1536. اردو حاشیہ: یہ تینوں شخصیات بالعموم ایسی ہوتی ہیں۔ کہ ان میں اخلاص صدق رقت قلب اور انکساری بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اور ان کی دعا میں خیر اور شر کے دونوں پہلوں ممکن ہیں۔ لہذا بیٹے کو چاہیے کہ باپ کے ساتھ باادب معاون اور مطیع رہے۔ اور اس کی دعائوں سے حصہ حاصل کرنے والا بنے۔ مسافر کے ساتھ حسن سلوک کا معاملہ بھی واضح ہے۔ کہ اس کی بد دعا از حد نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔ اسی لئے کسی پر کبھی ظلم نہیں کرنا چاہیے۔ اور ان حضرات کو بھی یہی لائق ہے کہ اللہ کی رحمتوں کے سائل رہیں۔ اور مشکلات پر صبر کرکے اللہ سے اجر لیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1536 سے ماخوذ ہے۔