حدیث نمبر: 3856
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ , عَنْ الْقَاسِمِ , قَالَ : " اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ الَّذِي إِذَا دُعِيَ بِهِ أَجَابَ فِي سُوَرٍ ثَلَاثٍ : الْبَقَرَةِ , وَآلِ عِمْرَانَ , وَطه " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´قاسم کہتے ہیں کہ` اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے تین سورتوں میں ہے : سورۃ البقرہ ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طہٰ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: سورۃ بقرہ اور سورۃ آل عمران میں بھی یہی ہے: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» (سورة آل عمران: 2) اور سورۃ طہ میں ہے: «الله لا إله إلا هو له الأسماء الحسنى» (سورة طہ: 8) بعضوں نے کہا: «الله لا إله إلا هو الحي القيوم» یہی اسم اعظم ہے، بعضوں نے کہا صرف «الحي القيوم» ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3856
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 4921 ، ومصباح الزجاجة : 1351 ) ( حسن ) ( ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 746 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا بیان۔`
قاسم کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم جس کے ذریعہ اگر دعا کی جائے تو قبول ہوتی ہے تین سورتوں میں ہے: سورۃ البقرہ، سورۃ آل عمران اور سورۃ طہٰ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3856]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
اللہ تعالیٰ کے عظیم ترین نام (اسم اعظم)
کے بارے میں امام ابن ماجہ نے متعدد احادیث بیان کی ہیں کہ اس نام کے واسطے سے کی ہوئی دعا قبول ہوتی ہے۔

(2)
دعا کی قبولیت میں مسنون دعائیں پڑھنے کے ساتھ ساتھ دعا کرنے والے کی قلبی کیفیت کا بہت زیادہ دخل ہے۔
جس قدر اللہ سے امید ہو، اس کے آگے عجز و انکساری کا اظہار اور ا س پر توکل زیادہ ہو، اور جس قدر دعا کے دوسرے آداب کو زیادہ ملحوظ رکھا جائے، قبولیت کا امکان اسی قدر زیادہ ہوتا ہے۔

(3)
قبولیت دعا کے لیے ضروری ہے کہ کوئی رکاوٹ موجود نہ ہو، مثلاً: رزق حرام، بے توجہی سے دعا جو صرف زبان سے ادا ہوتی ہے دل متوجہ نہیں ہوتا، اللہ کی حمد و ثنا اور نبی ﷺ پر درود نہ پڑھنا وغیرہ، اس صورت میں اسم اعظم کی وہ برکات ظاہر نہیں ہوتیں جن کی اس سے امید رکھی جاتی ہے۔

(4)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ، نے اسم اعظم کے تعین میں چودہ اقوال ذکر کیے ہیں۔
دیکھئے: (فتح الباري: 11/ 268، 269، حديث: 6410)
اسم اعظم والی جو آیات وادعیہ مختلف احادیث میں ذکر کی گئی ہیں، ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ غالباً کلمہ توحید (لَا إِلٰهَ إِلَّا الله يا لَا إِلٰهَ إِلَّا أَنْتَ)
ہی اسم اعظم ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3856 سے ماخوذ ہے۔