حدیث نمبر: 3855
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163 وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ” تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے ، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے “ ( سورۃ البقرہ : ۱۶۳ ) اور سورۃ آل عمران کے شروع میں : «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ” «الم» ، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، جو حی و قیوم ( زندہ اور سب کا نگہبان ) ہے ۔‏‏‏‏“ ( سورۃ آل عمران : ۱-۲ ) ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3855
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الصلاة 358 ( 1496 ) ، سنن الترمذی/الدعوات 65 ( 3478 ) ، ( تحفة الأشراف : 15767 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/461 ) ، سنن الدارمی/فضائل القرآن 14 ( 3432 ) ( حسن ) » ( سند میں عبید اللہ القداح ضعیف ہیں ، نیز شہر بن حوشب میں بھی کلام ہے ، ترمذی نے حدیث کو صحیح کہا ہے ، اس کی شاہد ابوامامہ کی حدیث ( 3856؍أ ) ہے ، جس سے تقویت پاکر یہ حدیث حسن ہوئی ، ملاحظہ ہو : ا لصحیحہ : 746 ، وصحیح ابی داود : 5؍ 234 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3478 | سنن ابي داود: 1496

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3478 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´باب:۔۔۔`
اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے (ایک آیت) «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» تم سب کا معبود ایک ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ رحمن، رحیم ہے (البقرہ: ۱۶۳)، اور (دوسری آیت) آل عمران کی شروع کی آیت «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ہے «الم» ، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو «حی» زندہ اور «قیوم» سب کا نگہبان ہے (آل عمران: ۱-۲)۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3478]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تم سب کا معبود ایک ہی معبود بر حق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ َرحْمٰن، َرحِیْم ہے۔
(البقرہ: 163) (یعنی اَلرَّحْمنٰ اَلرَّحِیْم)
2؎:
الم، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو حی (زندہ) اور قیوم (سب کا نگہبان) ہے۔
(آل عمران: 1-2) (یعنی: اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم)

نوٹ:
(سند میں ’’عبید اللہ بن ابی زیاد القداح‘‘ اور ’’شہر بن حوشب‘‘ ضعیف ہیں، مگر ابوامامہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم 746)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3478 سے ماخوذ ہے۔