سنن ابن ماجه
كتاب الدعاء— کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : اسْمِ اللَّهِ الأَعْظَمِ باب: اللہ تعالیٰ کے اسم اعظم کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي زِيَادٍ , عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ , قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " اسْمُ اللَّهِ الْأَعْظَمُ فِي هَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ وَإِلَهُكُمْ إِلَهٌ وَاحِدٌ لا إِلَهَ إِلا هُوَ الرَّحْمَنُ الرَّحِيمُ سورة البقرة آية 163 وَفَاتِحَةِ سُورَةِ آلِ عِمْرَانَ .
´اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ کا اسم اعظم ان دو آیات میں ہے «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ” تم سب کا معبود ایک ہی معبود ہے ، اس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، وہ بہت رحم کرنے والا اور بڑا مہربان ہے “ ( سورۃ البقرہ : ۱۶۳ ) اور سورۃ آل عمران کے شروع میں : «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ” «الم» ، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں ، جو حی و قیوم ( زندہ اور سب کا نگہبان ) ہے ۔“ ( سورۃ آل عمران : ۱-۲ ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
اسماء بنت یزید سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” اللہ کا اسم اعظم ان دو آیتوں میں ہے (ایک آیت) «وإلهكم إله واحد لا إله إلا هو الرحمن الرحيم» ” تم سب کا معبود ایک ہی معبود برحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ رحمن، رحیم ہے “ (البقرہ: ۱۶۳)، اور (دوسری آیت) آل عمران کی شروع کی آیت «الم الله لا إله إلا هو الحي القيوم» ہے ” «الم» ، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو «حی» زندہ اور «قیوم» سب کا نگہبان ہے “ (آل عمران: ۱-۲)۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3478]
وضاحت:
1؎:
تم سب کا معبود ایک ہی معبود بر حق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے، وہ َرحْمٰن، َرحِیْم ہے۔
(البقرہ: 163) (یعنی اَلرَّحْمنٰ اَلرَّحِیْم)
2؎:
الم، اللہ تعالیٰ وہ ہے جس کے سوا کوئی معبود برحق نہیں، جو حی (زندہ) اور قیوم (سب کا نگہبان) ہے۔
(آل عمران: 1-2) (یعنی: اَلْحَیُّ الْقَیُّوْم)
نوٹ:
(سند میں ’’عبید اللہ بن ابی زیاد القداح‘‘ اور ’’شہر بن حوشب‘‘ ضعیف ہیں، مگر ابوامامہ کی حدیث سے تقویت پا کر یہ حدیث حسن لغیرہ ہے، ملاحظہ ہو: الصحیحة رقم 746)