سنن ابن ماجه
كتاب الدعاء— کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : الدُّعَاءِ بِالْعَفْوِ وَالْعَافِيَةِ باب: عفو اور عافیت کی دعا کا بیان۔
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ أَخْبَرَنِي سَلَمَةُ بْنُ وَرْدَانَ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " , ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّانِي , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " , ثُمَّ أَتَاهُ فِي الْيَوْمِ الثَّالِثِ , فَقَالَ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ , أَيُّ الدُّعَاءِ أَفْضَلُ ؟ قَالَ : " سَلْ رَبَّكَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , فَإِذَا أُعْطِيتَ الْعَفْوَ وَالْعَافِيَةَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ , فَقَدْ أَفْلَحْتَ " .
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شخص آیا اور کہنے لگا : اللہ کے رسول ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ سے دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو “ ، پھر وہ شخص دوسرے دن حاضر خدمت ہوا اور عرض کیا : اللہ کے رسول ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو اور عافیت کا سوال کیا کرو “ ، پھر وہ تیسرے دن بھی حاضر خدمت ہوا ، اور عرض کیا : اللہ کے نبی ! کون سی دعا سب سے بہتر ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اپنے رب سے دنیا و آخرت میں عفو و عافیت کا سوال کیا کرو ، کیونکہ جب تمہیں دنیا اور آخرت میں عفو اور عافیت عطا ہو گئی تو تم کامیاب ہو گئے “ ۱؎ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر عرض کیا: اللہ کے رسول! کون سی دعا افضل (سب سے اچھی) ہے؟ آپ نے فرمایا: ” اپنے رب سے دنیا و آخرت میں بلاؤں و مصیبتوں سے بچا دینے کی دعا کرو “، پھر آپ کے پاس وہی شخص دوسرے دن بھی آیا، اور آپ سے پھر پوچھا: ” کون سی دعا افضل ہے؟ “ آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا جیسا پہلے جواب دیا تھا، وہ شخص تیسرے دن بھی آپ کے پاس حاضر ہوا، اس دن بھی آپ نے اسے ویسا ہی جواب دیا، مزید فرمایا: ” جب تمہیں دنیا و آخرت میں عافیت مل جائے تو سمجھ لو کہ تم نے کامیابی حاصل کر لی۔“۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3512]
وضاحت:
نوٹ:
(سند میں ’’سلمہ بن وردان‘‘ ضعیف راوی ہیں)