سنن ابن ماجه
كتاب الدعاء— کتاب: دعا کے فضائل و آداب اور احکام و مسائل
بَابُ : الْجَوَامِعِ مِنَ الدُّعَاءِ باب: جامع دعاؤں کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا أَبُو مَالِكٍ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي ؟ قَالَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي , وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي " , وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ , " فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دِينَكَ وَدُنْيَاكَ " .
´طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( اس وقت کہ جب ) ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جب اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہ کہو : «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني» ” اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما “ ، اور آپ نے انگوٹھے کے علاوہ چاروں انگلیاں جمع کر کے فرمایا : ” یہ چاروں کلمات تمہارے لیے دین اور دنیا دونوں کو اکٹھا کر دیں گے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا (اس وقت کہ جب) ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جب اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم یہ کہو: «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني» ” اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما “، اور آپ نے انگوٹھے کے علاوہ چاروں انگلیاں جمع کر کے فرمایا: ” یہ چاروں کلمات تمہارے لیے دین اور دنیا دونوں کو اکٹھا کر دیں گے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3845]
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا میں اگر کسی کو بیماری اور مصیبت سے عافیت اور کھلا رزق مل گیا تو گویا اسے دنیا کی ساری نعمتیں مل گئیں، اور آخرت میں اگر گناہ معاف ہو گئے تو گویا آخرت کی ساری نعمتیں مل گئیں۔
رحمت ایسی چیز ہے جس پر دنیا اور آخرت کی سب نعمتوں کا دارومدار ہے۔
اس لحاظ سے یہ انتہائی جامع دعا ہے۔
(2)
اشارہ کرنے سے بات اچھی طرح سمجھ آتی اور ذہن نشین ہوتی ہے۔