حدیث نمبر: 3845
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا أَبُو مَالِكٍ سَعْدُ بْنُ طَارِقٍ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ أَتَاهُ رَجُلٌ , فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ , كَيْفَ أَقُولُ حِينَ أَسْأَلُ رَبِّي ؟ قَالَ : " قُلْ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي , وَعَافِنِي وَارْزُقْنِي " , وَجَمَعَ أَصَابِعَهُ الْأَرْبَعَ إِلَّا الْإِبْهَامَ , " فَإِنَّ هَؤُلَاءِ يَجْمَعْنَ لَكَ دِينَكَ وَدُنْيَاكَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ( اس وقت کہ جب ) ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا ، اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! میں جب اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم یہ کہو : «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني» ” اے اللہ ! مجھے بخش دے ، مجھ پر رحم فرما ، اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما “ ، اور آپ نے انگوٹھے کے علاوہ چاروں انگلیاں جمع کر کے فرمایا : ” یہ چاروں کلمات تمہارے لیے دین اور دنیا دونوں کو اکٹھا کر دیں گے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3845
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الذکروالدعاء 10 ( 2797 ) ، ( تحفة الأشراف : 4977 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 3/472 ، 4/353 ، 356 ، 382 ، 6/394 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2697

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جامع دعاؤں کا بیان۔`
طارق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا (اس وقت کہ جب) ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں جب اپنے رب سے سوال کروں تو کیا کہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یہ کہو: «اللهم اغفر لي وارحمني وعافني وارزقني» اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، اور مجھے عافیت دے اور مجھے رزق عطا فرما ، اور آپ نے انگوٹھے کے علاوہ چاروں انگلیاں جمع کر کے فرمایا: یہ چاروں کلمات تمہارے لیے دین اور دنیا دونوں کو اکٹھا کر دیں گے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3845]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دنیا میں اگر کسی کو بیماری اور مصیبت سے عافیت اور کھلا رزق مل گیا تو گویا اسے دنیا کی ساری نعمتیں مل گئیں، اور آخرت میں اگر گناہ معاف ہو گئے تو گویا آخرت کی ساری نعمتیں مل گئیں۔
رحمت ایسی چیز ہے جس پر دنیا اور آخرت کی سب نعمتوں کا دارومدار ہے۔
اس لحاظ سے یہ انتہائی جامع دعا ہے۔

(2)
اشارہ کرنے سے بات اچھی طرح سمجھ آتی اور ذہن نشین ہوتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3845 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2697 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
ابومالک اشجعی رحمۃ اللہ علیہ اپنے باپ سے بیان کرتے ہیں،جب کوئی شخص مسلمان ہوتا،نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے نماز سکھاتے،پھر اسے ان کلمات کے ساتھ دعا کرنے کی تلقین فرماتے،"اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي، وَارْحَمْنِي، وَاهْدِنِي، وَعَافِنِي، وَارْزُقْنِي""معنی اوپر والی حدیث میں گزرچکا ہے۔ [صحيح مسلم، حديث نمبر:6850]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے، ایمان لانے کے بعد سب سے اہم اور بنیادی عمل نماز ہے، جو ایمان کے بیج سے سب سے پہلے نمودار ہوتا ہے اور اس کے مسلمان ہونے کا عملی ثبوت فراہم کرتا ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2697 سے ماخوذ ہے۔