حدیث نمبر: 3842
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ جَعْفَرِ بْنِ عِيَاضٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفَقْرِ وَالْقِلَّةِ وَالذِّلَّةِ , وَأَنْ تَظْلِمَ أَوْ تُظْلَمَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم اللہ سے فقیری ، مال کی کمی ، ذلت ، ظلم کرنے اور ظلم کئے جانے سے پناہ مانگو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3842
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «سنن النسائی/الاستعاذة 14 ( 5465 ) ، ( تحفة الأشراف : 2235 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/305 ) ( ضعیف ) » ( سند میں محمد بن مصعب صدوق لیکن کثیر الغلط راوی ہیں ، اور اسحاق بن عبد اللہ بن أبی فروہ متروک ، لیکن فعل رسول ﷺ سے ایسا ثابت ہے ، نیز ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة ، للالبانی : 1445 وصحیح ابی داود : 1381 )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن نسائي: 5462 | سنن نسائي: 5466 | سنن ابي داود: 1544

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´جن چیزوں سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پناہ چاہی ہے ان کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اللہ سے فقیری، مال کی کمی، ذلت، ظلم کرنے اور ظلم کئے جانے سے پناہ مانگو۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3842]
اردو حاشہ:
فوائد  ومسائل: ان چیزوں سے پناہ مانگنے کےلیے اس طرح دعا کریں: «اللّهُمَّ إنِّي أَعُوْذُ بِكَ مِنَ الْفَقْرِ، وَالْقِلَّةِ، وَالذِّلَّةِ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ أَنْ أَظْلِمَ أو أُظْلَمَ»
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3842 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5462 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´ذلت سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «اللہم إني أعوذ بك من الفقر وأعوذ بك من القلة والذلة وأعوذ بك أن أظلم أو أظلم» اے اللہ! میں فقر و غربت سے تیری پناہ مانگتا ہوں، کمی اور ذلت سے پناہ مانگتا ہوں، ظلم کرنے اور ظلم کیے جانے سے تیری پناہ مانگتا ہوں۔‏‏‏‏ (ابوعبدالرحمٰن نسائی کہتے ہیں) اوزاعی نے حماد کی مخالفت کی ہے ۱؎۔ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5462]
اردو حاشہ: اوزاعی نے اس حدیث کے بیان کرنے میں حماد بن سلمہ کی مخالفت کی ہے اور وہ اس طرح کہ حماد بن سلمہ نے اسحاق بن عبد اللہ سے بیان کرتے ہوئے کہا ہے:عن سعید بن یسار عن أبي هریرة جبکہ اوزاعی نے اسحاق بن عبد اللہ سے بیان کیا ہے تو کہا ہے: حدثني جعفر بن عیاض‘ قال حدثني أبي هریرة‘یعنی اوزاعی نے سعید بن یسار کی بجائے جعفر بن عیاض کہا ہے۔ واللہ أعلم
(1) سنن ابوداؤد مترجم‘ مطبوعہ دارالسلام‘ حدیث:1544 کے فائدے میں ابو عمار عمر فاروق سعیدی حفظہ اللہ رقم طراز ہیں کہ فقر دو طرح سے ہوتا ہے: مال کا یا دل کا۔ انسان کے پاس مال نہ ہو مگر دل کا غنی اور سیر چشم ہو تو یہ ممدوح ہے مگر اس کے بر عکس انسان حرص کا مریض ہو تو یہ بہت ہی قبیح خصلت ہے‘ نیز فقیری اور غریبی کی کیفیت کہ انسان ضروریات زندگی کے حصول سے محروم اور عاجز ہو کر لازمی واجبات کی ادا نہ کر سکے‘ اس سے رسول اللہ ﷺ نے پناہ مانگی ہے۔ قلت سے مراد اعمال خیر اور ان کے اسباب کی قلت ہے اور ذلت یہ کہ انسان عصیان (اللہ تعالی ٰ نافرمانی) کا مرتکب ہو کر اللہ کے سامنے رسوا ہو جائے یا لوگوں کی نظروں میں اس کا وقار نہ رہے کہ اس کی دعوت ہی نہ سنی جائے۔اس سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اسی طرح انسان کا اپنے معاشرے میں ظالم بن جانا یا مظلوم بن جانا‘ کوئی بھی صورت ممدوح نہیں۔
(2) فقر سے مراد وہ فقر بھی ہو سکتا ہے جس سے کفر اور گمراہی کا خطرہ ہو کیونکہ عوام الناس کے لیے فقر گمراہی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ ہاں اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کے لیے مالی فقر ایک نعمت ہے۔ آپ کی دعائیں دراصل امت کے لیے تعلیم ہیں۔ یا فقر سے مراد جسے انسان برداشت نہ کر سکے اور دست سوال دراز کرنے پر مجبور ہو جاۓ۔ فقر سے فقرقلب بھی مراد ہو سکتا ہے جیسا کہ گزشتہ سطور میں ذکر ہوا۔
(3) قلت سے مراد افراد بھی ہو سکتی ہے اور قلت مال بھی جسے اوپر فقر کہا گیا ہے ورنہ کثرت مال تو بسا اوقات گمراہی کا سبب بن جاتی ہے۔ ذلت سے مراد لوگوں کا غلبہ ہے کہ آدمی اپنا حق بھی حاصل نہ کر سکے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ‘حدیث:5451۔
(4) اس حدیث میں ہر بعد والا لفظ پہلے کا نتیجہ ہے۔ فقر سے قلت پیدا ہوتی ہے‘ قلت ذلت کو جنم دیتی ہے اور ذلت انسان کو مظلوم بنا دیتی ہے۔ یا وہ تنگ آمد بجنگ آمد کے اصول پر ظالم ڈاکو بن جاتا ہے۔ نعوذ بالله من ذلك
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5462 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن نسائي / حدیث: 5466 کی شرح از حافظ محمد امین ✍️
´فقر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے پناہ مانگو فقر سے، قلت اور ذلت سے اور ظلم کرنے اور کیے جانے سے۔‏‏‏‏ [سنن نسائي/كتاب الاستعاذة/حدیث: 5466]
اردو حاشہ: تفصیل کے لیے دیکھیے، فائدہ حدیث: 5463۔
درج بالا اقتباس سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 5466 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1544 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´(بری باتوں سے اللہ کی) پناہ مانگنے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ دعا پڑھتے تھے: «اللهم إني أعوذ بك من الفقر، والقلة، والذلة، وأعوذ بك من أن أظلم أو أظلم» اے اللہ! میں فقر، قلت مال اور ذلت سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1544]
1544. اردو حاشیہ: ’’فقر‘‘ دو طرح سے ہوتا ہے، مال کا یا دل کا۔ انسان کے پاس مال نہ ہو مگر دل غنی اور سیر چشم ہو تو یہ ممدوح ہے مگر اس کے برعکس انسان ’’حرص‘‘ کا مریض ہو یہ تو بہت ہی قبیح خصلت ہے۔ نیز فقیری اور غریبی کی یہ کیفیت کہ انسان ضروریات زندگی کے حصول سے محروم اور عاجز ہو کہ لازمی واجبات بھی ادا نہ کرسکے۔ اس سے رسول اللہ ﷺ نے پناہ مانگی ہے۔ ’’قلت‘‘ سے مراد اعمال خیر اور ان کے اسباب کی قلت ہے اور ’’ذلت‘‘ یہ کہ انسان عصیان کا مرتکب ہو کر اللہ کے سامنے رسوا ہو جائے یا لوگوں کی نظروں میں اس کا وقار نہ رہے کہ اس کی دعوت ہی نہ سنی جائے۔ اس سے اللہ کی پناہ مانگنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ اسی طرح انسان کا اپنے معاشرے میں ظالم بن جانا یا مظلوم بن جانا کوئی بھی صورت ممدوح نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1544 سے ماخوذ ہے۔