حدیث نمبر: 3836
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مِسْعَرٍ , عَنْ أَبِي مَرْزُوقٍ , عَنْ أَبِي وَائِلٍ , عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ , قَالَ : خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُتَّكِئٌ عَلَى عَصًا , فَلَمَّا رَأَيْنَاهُ قُمْنَا , فَقَالَ : " لَا تَفْعَلُوا كَمَا يَفْعَلُ أَهْلُ فَارِسَ بِعُظَمَائِهَا " , قُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ : لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ لَنَا , قَالَ : " اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا , وَارْضَ عَنَّا , وَتَقَبَّلْ مِنَّا , وَأَدْخِلْنَا الْجَنَّةَ , وَنَجِّنَا مِنَ النَّارِ , وَأَصْلِحْ لَنَا شَأْنَنَا كُلَّهُ " , قَالَ فَكَأَنَّمَا أَحْبَبْنَا أَنْ يَزِيدَنَا , فَقَالَ : " أَوَلَيْسَ قَدْ جَمَعْتُ لَكُمُ الْأَمْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصا ( چھڑی ) پر ٹیک لگائے ہمارے پاس باہر تشریف لائے ، جب ہم نے آپ کو دیکھا تو ہم کھڑے ہو گئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم ایسے کھڑے نہ ہوا کرو جیسے فارس کے لوگ اپنے بڑوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں “ ہم نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کاش آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا فرماتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی : «اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وأدخلنا الجنة ونجنا من النار وأصلح لنا شأننا كله» ” اے اللہ ! ہمیں بخش دے ، اور ہم پر رحم فرما ، اور ہم سے راضی ہو جا ، ہماری عبادت قبول فرما ، ہمیں جنت میں داخل فرما ، اور جہنم سے بچا ، اور ہمارے سارے کام درست فرما دے “ ، ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : تو گویا ہماری خواہش ہوئی کہ آپ اور کچھ دعا فرمائیں : تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا میں نے تمہارے لیے جامع دعا نہیں کر دی “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3836
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, سنن أبي داود (5230), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 514
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأدب 165 ( 5230 ) ، ( تحفة الأشراف : 4934 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/253 ، 256 ) ( ضعیف ) » ( ابو مرزوق لین الحدیث ہیں ، اور سند میں کافی اضطراب ہے ، لیکن فعل فارس سے ممانعت صحیح مسلم میں جابر رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے ، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الضعیفة ، للالبانی : 346 )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کا بیان۔`
ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عصا (چھڑی) پر ٹیک لگائے ہمارے پاس باہر تشریف لائے، جب ہم نے آپ کو دیکھا تو ہم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " تم ایسے کھڑے نہ ہوا کرو جیسے فارس کے لوگ اپنے بڑوں کے لیے کھڑے ہوتے ہیں " ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! کاش آپ ہمارے لیے اللہ سے دعا فرماتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: «اللهم اغفر لنا وارحمنا وارض عنا وتقبل منا وأدخلنا الجنة ونجنا من النار وأصلح لنا شأننا كله» " اے اللہ! ہمیں بخش دے، اور ہم پر رحم فرما، اور ہم سے راضی ہو جا، ہما۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3836]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تا ہم دیگر صحیح احادیث سے احتراماً کھڑے ہونے کی ممانعت ثابت ہے، جیسا کہ ہمارے فاضل محقق نے تحقیق و تخریج میں لکھا ہے کہ مذکورہ روایت کے بعض حصے کے شواہد صحیح مسلم میں ہیں۔
مذکورہ روایت کی سندی بحث اور دیگر شواہد کی تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد حديث: 36/ 515، 518)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3836 سے ماخوذ ہے۔