حدیث نمبر: 3827
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , حَدَّثَنَا أَبُو الْمَلِيحِ الْمَدَنِيُّ , قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَمْ يَدْعُ اللَّهَ سُبْحَانَهُ غَضِبَ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا ، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک ( غصہ ) ہوتا ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ آدمی اپنے مالک سے مانگے، نہ مانگنے سے غرور و تکبر اور بے نیازی ظاہر ہوتی ہے، آدمی کو چاہئے کہ اپنی ہر ضرورت کو اپنے مالک سے مانگے اور جب کوئی تکلیف ہو تو اپنے مالک سے دعا کرے، ہم تو اس کے در کے بھیک مانگنے والے ہیں، رات دن اس سے مانگا ہی کرتے ہیں، اور ذرا سا صدمہ ہوتا ہے تو ہم سے صبر نہیں ہو سکتا اپنے مالک سے اسی وقت دعا کرنے لگتے ہیں ہم تو ہر وقت اس کے محتاج ہیں، اور اس کے در دولت کے فقیر ہیں۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الدعاء / حدیث: 3827
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, ترمذي (3373), انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الدعوات 2 ( 3373 ) ، ( تحفة الأشراف : 15441 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/443 ، 477 ) ( صحیح ) ( تراجع الألباني : رقم : 113 ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دعا کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " جو شخص اللہ تعالیٰ سے دعا نہیں کرتا، تو اللہ تعالیٰ اس پر غضب ناک (غصہ) ہوتا ہے " ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الدعاء/حدیث: 3827]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
دعا ایک عبادت ہے کیونکہ اس میں بندہ اللہ کے سامنے اپنے فقر اور عجز کا اظہار کرتا ہے، اور اللہ کی عظمت و قدرت کا اعتراف کرتے ہوئے اس سے اپنی حاجت پوری ہونے کی درخواست کرتا ہے۔

(2)
مذکورہ روایت کو بعض محققین نے حسن قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھئے: (الصحيحة رقم: 2654)
بنا بریں دعا نہ کرنا عبادت سے اعراض ہے، اس لیے اللہ کی ناراضی کا باعث ہے۔

(3)
دعا میں ان آداب کا خیال رکھنا ضروری ہے جو احادیث میں بیان ہوئے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3827 سے ماخوذ ہے۔