حدیث نمبر: 3821
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ الْمَعْرُورِ بْنِ سُوَيْدٍ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَقُولُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى : مَنْ جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ , وَمَنْ جَاءَ بِالسَّيِّئَةِ فَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ , وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا , وَمَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ مِنْهُ بَاعًا , وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً , وَمَنْ لَقِيَنِي بِقِرَابِ الْأَرْضِ خَطِيئَةً , ثُمَّ لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَقِيتُهُ بِمِثْلِهَا مَغْفِرَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : جو شخص ایک نیکی کرے گا اس کو اسی طرح دس نیکیوں کا ثواب ملے گا ، اور میں اس پر زیادہ بھی کر سکتا ہوں ، اور جو شخص ایک برائی کرے گا اس کو ایک ہی برائی کا بدلہ ملے گا ، یا میں بخش دوں گا ، اور جو شخص مجھ سے ( عبادت و طاعت کے ذریعہ ) ایک بالشت قریب ہو گا ، تو میں اس سے ایک ہاتھ نزدیک ہوں گا ، اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ نزدیک ہو گا تو میں اس سے ایک «باع» یعنی دونوں ہاتھ قریب ہو گا ، اور جو شخص میرے پاس ( معمولی چال سے ) چل کر آئے گا ، تو میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا ، اور جو شخص مجھ سے زمین بھر گناہوں کے ساتھ ملے گا ، اس حال میں کہ وہ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اس کے گناہوں کے برابر بخشش لے کر اس سے ملوں گا ۔‏‏‏‏“

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3821
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/الذکر والدعاء 6 ( 2687 ) ، ( تحفة الأشراف : 11984 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/147 ، 148 ، 153 ، 155 ، 169 ، 180 ، سنن الدارمی/الرقاق 72 ( 2830 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2687 | معجم صغير للطبراني: 30 | سلسله احاديث صحيحه: 16

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عمل کی فضیلت۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: جو شخص ایک نیکی کرے گا اس کو اسی طرح دس نیکیوں کا ثواب ملے گا، اور میں اس پر زیادہ بھی کر سکتا ہوں، اور جو شخص ایک برائی کرے گا اس کو ایک ہی برائی کا بدلہ ملے گا، یا میں بخش دوں گا، اور جو شخص مجھ سے (عبادت و طاعت کے ذریعہ) ایک بالشت قریب ہو گا، تو میں اس سے ایک ہاتھ نزدیک ہوں گا، اور جو شخص مجھ سے ایک ہاتھ نزدیک ہو گا تو میں اس سے ایک «باع» یعنی دونوں ہاتھ قریب ہو گا، اور جو شخص میرے پاس (معمولی چال سے) چل کر آئے گا، تو میں اس کے پاس دوڑ کر آؤں گا، اور جو شخص مج۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3821]
اردو حاشہ:
فوائد و  مسائل: (1)
اس حدیث میں اللہ کی عظیم رحمت کا بیان ہے، اس لیے بندے کو نیکیاں زیادہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اور گناہوں سے توبہ کرتے رہنا چاہیے۔

(2)
جو شخص اللہ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اللہ تعالی اسے توفیق بخشتا ہے۔

(3)
شرک کی موجودگی میں گناہ معاف نہیں ہوتے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3821 سے ماخوذ ہے۔