سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ يَتَوَضَّآنِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ باب: مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 382
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ ، حَدَّثَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ النُّعْمَانِ وَهُوَ ابْنُ سَرْج ، عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ ، قَالَتْ : " رُبَّمَا اخْتَلَفَتْ يَدِي ، وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ " ، قَالَ أَبُو عَبْد اللَّهِ ابْنُ مَاجَةَ : سَمِعْتُ مُحَمَّدًا يَقُولُ : أُمُّ صُبَيَّةَ هِيَ خَوْلَةُ بِنْتُ قَيْسٍ ، فَذَكَرْتُ لِأَبِي زُرْعَةَ ، فَقَالَ : صَدَقَ .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام صبیہ جہنیہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` اکثر میرا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ایک ہی برتن سے وضو کرتے وقت ٹکرا جایا کرتا تھا ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں : میں نے محمد کو کہتے ہوئے سنا کہ ام صبیہ یہ خولہ بنت قیس ہیں اور میں نے اس کا ذکر ابوزرعہ سے کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مرد اور عورت کے ایک ہی برتن سے وضو کرنے کا بیان۔`
ام صبیہ جہنیہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اکثر میرا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ایک ہی برتن سے وضو کرتے وقت ٹکرا جایا کرتا تھا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد کو کہتے ہوئے سنا کہ ام صبیہ یہ خولہ بنت قیس ہیں اور میں نے اس کا ذکر ابوزرعہ سے کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 382]
ام صبیہ جہنیہ خولہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اکثر میرا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ایک ہی برتن سے وضو کرتے وقت ٹکرا جایا کرتا تھا۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: میں نے محمد کو کہتے ہوئے سنا کہ ام صبیہ یہ خولہ بنت قیس ہیں اور میں نے اس کا ذکر ابوزرعہ سے کیا تو انہوں نے اس کی تصدیق کی۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 382]
اردو حاشہ:
ممکن ہے کہ یہ واقعہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہو یا شاید ان کا نبیﷺ سے کوئی ایسا رشتہ ہو جس کی وجہ سے پردہ واجب نہ ہو۔
واللہ اعلم
ممکن ہے کہ یہ واقعہ پردے کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہو یا شاید ان کا نبیﷺ سے کوئی ایسا رشتہ ہو جس کی وجہ سے پردہ واجب نہ ہو۔
واللہ اعلم
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 382 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 78 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورت کے بچے ہوئے پانی سے وضو کرنا`
«. . . عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ، قَالَتْ: اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ . . .»
”. . . ام صبیہ جہنیہ (خولہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ وضو کرتے وقت ایک ہی برتن میں باری باری پڑتے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 78]
«. . . عَنْ أُمِّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةِ، قَالَتْ: اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ . . .»
”. . . ام صبیہ جہنیہ (خولہ بنت قیس) رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میرے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ وضو کرتے وقت ایک ہی برتن میں باری باری پڑتے . . .“ [سنن ابي داود/كِتَاب الطَّهَارَةِ: 78]
توضیح:
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محرم ہونے کا کوئی رشتہ ثابت نہیں ہے۔ یہ واقعہ شاید 6ھ آیات حجاب کے نزول سے پہلے کا ہو۔
سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محرم ہونے کا کوئی رشتہ ثابت نہیں ہے۔ یہ واقعہ شاید 6ھ آیات حجاب کے نزول سے پہلے کا ہو۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 78 سے ماخوذ ہے۔