حدیث نمبر: 3819
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ حَدَّثَهُ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ لَزِمَ الِاسْتِغْفَارَ , جَعَلَ اللَّهُ لَهُ مِنْ كُلِّ هَمٍّ فَرَجًا , وَمِنْ كُلِّ ضِيقٍ مَخْرَجًا , وَرَزَقَهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا ، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا ، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا ، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا ۔“ ۱؎
وضاحت:
۱؎: یعنی اس کے گناہ بخش دوں گا، اس حدیث میں موحد مسلمانوں کے لیے بڑی امید ہے کہ توحید کی برکت سے اللہ چاہے گا تو ان کے گناہوں کو چاہے وہ کتنے ہی زیادہ ہوں بخش دے گا، لیکن کسی کو اس مغفرت پر تکیہ نہ کرنا چاہئے، اس لئے کہ انجام حال معلوم نہیں، اور اللہ رب العزت کی جیسی رحمت وسیع ہے ویسے ہی اس کا عذاب بھی سخت ہے، پس ہمیشہ گناہوں سے ڈرتا اور بچتا رہے، توبہ اور استغفار کرتا رہے، اور شرک سے بچنے اور دور رہنے کا بڑا خیال رکھے کیونکہ شرک کے ساتھ بخشے جانے کی توقع نہیں ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´استغفار کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3819]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس نے استغفار کو لازم کر لیا تو اللہ تعالیٰ اسے ہر غم اور تکلیف سے نجات دے گا، اور ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرما دے گا، اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جہاں سے اسے وہم و گمان بھی نہ ہو گا “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3819]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تا ہم توبہ استغفار کی اہمیت و فضیلت دیگر احادیث سے مسلم ہے۔
علاوہ ازیں حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا تھا: ﴿فَقُلتُ اسْتَغفِروا رَبَّكُم إِنَّهُ كانَ غَفّارًا يُرْسِلِ السَّماءَ عَلَيكُمْ مِدرارًا وَيُمدِدْكُم بِأَمْوالٍ وَبَنينَ وَيَجعَل لَكُم جَنّاتٍ وَيَجعَل لَكُم أَنْهَارًا﴾ (نوح، 71: 10تا 12)
’’اپنے رب سے بخشش مانگو (اور توبہ کرو)
وہ یقیناً بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔
وہ تم پر آسمان سےخوب بارش برسائے گا اور تمہیں مال اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے دریا جاری کر دے گا۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استغفار گناہوں کی معافی کے ساتھ ساتھ دنیوی مشکلات کے حل اور دنیوی نعمتوں کے حصول کاذریعہ بھی ہے۔
فوائد و مسائل: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے، تا ہم توبہ استغفار کی اہمیت و فضیلت دیگر احادیث سے مسلم ہے۔
علاوہ ازیں حضرت نوح ؑ نے اپنی قوم کی تلقین کرتے ہوئے فرمایا تھا: ﴿فَقُلتُ اسْتَغفِروا رَبَّكُم إِنَّهُ كانَ غَفّارًا يُرْسِلِ السَّماءَ عَلَيكُمْ مِدرارًا وَيُمدِدْكُم بِأَمْوالٍ وَبَنينَ وَيَجعَل لَكُم جَنّاتٍ وَيَجعَل لَكُم أَنْهَارًا﴾ (نوح، 71: 10تا 12)
’’اپنے رب سے بخشش مانگو (اور توبہ کرو)
وہ یقیناً بہت زیادہ بخشنے والا ہے۔
وہ تم پر آسمان سےخوب بارش برسائے گا اور تمہیں مال اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لیے دریا جاری کر دے گا۔‘‘
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ استغفار گناہوں کی معافی کے ساتھ ساتھ دنیوی مشکلات کے حل اور دنیوی نعمتوں کے حصول کاذریعہ بھی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3819 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 1518 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´توبہ و استغفار کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی استغفار کا التزام کر لے ۱؎ تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1518]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو کوئی استغفار کا التزام کر لے ۱؎ تو اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے اور ہر رنج سے نجات پانے کی راہ ہموار کر دے گا اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا فرمائے گا، جس کا وہ تصور بھی نہیں کر سکتا۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الوتر /حدیث: 1518]
1518. اردو حاشیہ: یہ روایت تو سندا ضعیف ہے۔ تاہم استغفار کی اہمیت وفضیلت قرآن واحادیث صحیحہ سے ثابت ہے۔ اس لئے استغفار کی کثرت ہر صاحب تقویٰ کا شیوہ ہے۔ قرآن مجید میں ہے۔ [وَمَن يَتَّقِ اللَّـهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا ﴿٢﴾ وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ) [الطلاق۔
➋ 3]
جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ اللہ اس کے لئے تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے۔ اور ایسے مقام سے رزق دیتا ہے۔جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔ استغفار کے ہوتے ہوئے مومن متبع سنت کو کسی دست غیب اور بدعی عمل کی حاجت نہیں۔ رزق کی تنگی دامن گیر ہو یا دنیا کے ہموم وافکار کا ہجوم تو استغفار کرے وسعت ہوجائے گی۔ اور رنج وفکر سے نجات پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ [فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿١١﴾ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا]
[نوح۔
➓ 12]
اللہ سے بخشش مانگو بے شک وہ بہت ہی بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر موسلا دھار بارشیں برسائے گا۔ (قحط تنگ دستی جاتی رہے گی اور فراخی حاصل ہوگی) اور مالوں اور اولاد سے تمہای مدد فرمائے گا۔ اور تمھیں باغات اور نہریں دے گا۔ [فوائد وحید الزمان بتصرف]
➋ 3]
جو اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرے۔ اللہ اس کے لئے تنگی سے نکلنے کی راہ پیدا فرما دیتا ہے۔ اور ایسے مقام سے رزق دیتا ہے۔جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔ استغفار کے ہوتے ہوئے مومن متبع سنت کو کسی دست غیب اور بدعی عمل کی حاجت نہیں۔ رزق کی تنگی دامن گیر ہو یا دنیا کے ہموم وافکار کا ہجوم تو استغفار کرے وسعت ہوجائے گی۔ اور رنج وفکر سے نجات پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ [فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا يُرْسِلِ السَّمَاءَ عَلَيْكُم مِّدْرَارًا ﴿١١﴾ وَيُمْدِدْكُم بِأَمْوَالٍ وَبَنِينَ وَيَجْعَل لَّكُمْ جَنَّاتٍ وَيَجْعَل لَّكُمْ أَنْهَارًا]
[نوح۔
➓ 12]
اللہ سے بخشش مانگو بے شک وہ بہت ہی بخشنے والا ہے۔ وہ تم پر موسلا دھار بارشیں برسائے گا۔ (قحط تنگ دستی جاتی رہے گی اور فراخی حاصل ہوگی) اور مالوں اور اولاد سے تمہای مدد فرمائے گا۔ اور تمھیں باغات اور نہریں دے گا۔ [فوائد وحید الزمان بتصرف]
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 1518 سے ماخوذ ہے۔