حدیث نمبر: 3818
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ الْحِمْصِيُّ , حَدَّثَنَا أَبِي , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عِرْقٍ , سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بُسْرٍ , يَقُولُ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " طُوبَى لِمَنْ وَجَدَ فِي صَحِيفَتِهِ اسْتِغْفَارًا كَثِيرًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” مبارکبادی ہے اس شخص کے لیے جو اپنے صحیفہ ( نامہ اعمال ) میں کثرت سے استغفار پائے ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´استغفار کا بیان۔`
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مبارکبادی ہے اس شخص کے لیے جو اپنے صحیفہ (نامہ اعمال) میں کثرت سے استغفار پائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3818]
عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” مبارکبادی ہے اس شخص کے لیے جو اپنے صحیفہ (نامہ اعمال) میں کثرت سے استغفار پائے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3818]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: استغفار زیادہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ گناہ معاف ہوتے رہیں گے اور یہ کلمات اللہ کا ذکر ہونے کی وجہ سے نیکیوں میں شمار ہوتے رہیں گے، یعنی استغفار سے قیامت کے دن معافی ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
فوائد و مسائل: استغفار زیادہ ہونے کا یہ فائدہ ہے کہ گناہ معاف ہوتے رہیں گے اور یہ کلمات اللہ کا ذکر ہونے کی وجہ سے نیکیوں میں شمار ہوتے رہیں گے، یعنی استغفار سے قیامت کے دن معافی ملنے کی امید کی جا سکتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3818 سے ماخوذ ہے۔