حدیث نمبر: 3817
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ , عَنْ أَبِي إِسْحَاق , عَنْ أَبِي الْمُغِيرَةِ , عَنْ حُذَيْفَةَ , قَالَ : كَانَ فِي لِسَانِي ذَرَبٌ عَلَى أَهْلِي وَكَانَ لَا يَعْدُوهُمْ إِلَى غَيْرِهِمْ , فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ : " أَيْنَ أَنْتَ مِنَ الِاسْتِغْفَارِ ؟ تَسْتَغْفِرُ اللَّهَ فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں اپنے گھر والوں پر زبان درازی کرتا تھا ، لیکن اپنے گھر والوں کے سوا کسی اور سے زبان درازی نہ کرتا تھا ، میں نے اس کا ذکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم استغفار کیوں نہیں کیا کرتے ، تم ہر روز ستر بار استغفار کیا کرو ۔‏‏‏‏“

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3817
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 3376 ، ومصباح الزجاجة : 1338 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 5/394 ، 396 ، 397 ، 402 ) ، سنن الدارمی/الرقاق 15 ( 2765 ) ( ضعیف ) » ( سند میں ابوالمغیرہ حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت میں مضطرب الحدیث ہیں )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : معجم صغير للطبراني: 1068