حدیث نمبر: 3816
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ أَبِي الْحُرِّ , عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ بْنِ أَبِي مُوسَى , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنِّي لَأَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ , فِي الْيَوْمِ سَبْعِينَ مَرَّةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میں تو ہر روز اللہ تعالیٰ سے ستر بار استغفار اور توبہ کرتا ہوں ۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´استغفار کا بیان۔`
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں تو ہر روز اللہ تعالیٰ سے ستر بار استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3816]
ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میں تو ہر روز اللہ تعالیٰ سے ستر بار استغفار اور توبہ کرتا ہوں۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3816]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل: (1)
سو یا ستر مرتبہ سے مراد ایک تو اس مقدار کا تعین ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی سو مرتبہ استغفار فرماتے اور کبھی ستر مرتبہ، نیز ان احادیث سے کثرت سے استغفار کرنا بھی مراد بھی ہو سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
(2)
استغفار کے لیے کوئی مناسب الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں، مثلاً: (أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ)
یا حدیث: 3814 میں مذکور الفاظ۔
فوائد و مسائل: (1)
سو یا ستر مرتبہ سے مراد ایک تو اس مقدار کا تعین ہے کہ رسول اللہ ﷺ کبھی سو مرتبہ استغفار فرماتے اور کبھی ستر مرتبہ، نیز ان احادیث سے کثرت سے استغفار کرنا بھی مراد بھی ہو سکتا ہے۔
واللہ أعلم۔
(2)
استغفار کے لیے کوئی مناسب الفاظ استعمال کیے جا سکتے ہیں، مثلاً: (أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ)
یا حدیث: 3814 میں مذکور الفاظ۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3816 سے ماخوذ ہے۔