سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : فَضْلِ التَّسْبِيحِ باب: تسبیح (سبحان اللہ) کہنے کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3811
حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ , عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ , عَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ , عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " أَرْبَعٌ أَفْضَلُ الْكَلَامِ لَا يَضُرُّكَ بِأَيِّهِنَّ بَدَأْتَ : سُبْحَانَ اللَّهِ , وَالْحَمْدُ لِلَّهِ , وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَاللَّهُ أَكْبَرُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” چار کلمے تمام کلمات سے بہتر ہیں اور جس سے بھی تم شروع کرو تمہیں کوئی نقصان نہیں ، وہ یہ ہیں «سبحان الله والحمد لله ولا إله إلا الله والله أكبر» اللہ کی ذات پاک ہے ، ہر قسم کی حمد و ثناء اللہ ہی کو سزاوار ہے ، اللہ کے علاوہ کوئی معبود برحق نہیں ، اور اللہ بہت بڑا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: چاہے پہلے «سبحان اللہ» کہے، چاہے «الحمد للہ» چاہے «اللہ اکبر» چاہے: «لا إله إلا الله» اگر اس کے بعد یہ بھی ملائے «ولا حول ولا قوة إلا بالله العلي العظيم» تو اور زیادہ ثواب ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3811
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2137 | بلوغ المرام: 1340
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2137 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ تعلی عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’چار بول اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہیں، (سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ) [صحيح مسلم، حديث نمبر:5601]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث کے راوی کا قول ہے کہ میں نے یہ چار ہی نام سنے ہیں، مجھ سے بیان کرتے وقت ان پر اضافہ نہ کرنا، اگرچہ قیاس کی رو سے ان کے ہم معنی اور ہم مقصود نام اور بھی ہو سکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2137 سے ماخوذ ہے۔