حدیث نمبر: 3805
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ , حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ , عَنْ شَبِيبِ بْنِ بِشْرٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَى عَبْدٍ نِعْمَةً , فَقَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ , إِلَّا كَانَ الَّذِي أَعْطَاهُ , أَفْضَلَ مِمَّا أَخَذَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے ، اور وہ «الحمدللہ» کہتا ہے تو اس نے جو دیا وہ اس چیز سے افضل ہے جو اس نے لیا “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اللہ تعالی کے نزدیک اس کا «الحمد للہ» کہنا یہ اس نعمت سے افضل ہے جو اللہ تعالی نے اس کو دی، تو گویا بندے نے نعمت لی، اور اس سے افضل شئے اللہ تعالیٰ کی نزدیک اس کی عنایت ہے ورنہ اس کی نعمت کے سامنے ہمیں زبان سے ایک لفظ نکالنے کی کیا حقیقت ہے، اگر ہم لاکھوں برس تک «الحمد للہ» کہا کریں تو بھی اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہ ہو سکے گا۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3805
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, شبيب بن بشر ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 513

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب اللہ تعالیٰ اپنے بندے پر کوئی نعمت نازل فرماتا ہے، اور وہ «الحمدللہ» کہتا ہے تو اس نے جو دیا وہ اس چیز سے افضل ہے جو اس نے لیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3805]
اردو حاشہ:
  فوائد و مسائل:
بندہ دنیا کی ظاہری نعمت کو اہمیت دیتا ہے، حالانکہ اس نعمت پر جو شکر کی توفیق ملی اور شکر کے نتیجے میں ملنے والی اخروی نعمتیں و ہ اس دنیوی نعمت سے بد رجہا بہتر افضل ہیں، لہٰذا نعمت حاصل کرتے ہی شکر ادا کرنا ضروری ہے اور بندے کے لیے مفید بھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3805 سے ماخوذ ہے۔