سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : فَضْلِ الْحَامِدِينَ باب: اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔
حدیث نمبر: 3803
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ الْأَزْرَقُ أَبُو مَرْوَانَ , حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ , حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ , عَنْ مَنْصُورِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ أُمِّهِ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ , عَنْ عَائِشَةَ , قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا رَأَى مَا يُحِبُّ , قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي بِنِعْمَتِهِ تَتِمُّ الصَّالِحَاتُ , وَإِذَا رَأَى مَا يَكْرَهُ , قَالَ : الْحَمْدُ لِلَّهِ عَلَى كُلِّ حَالٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی اچھی بات دیکھتے تو فرماتے : ” «الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی مہربانی سے تمام نیک کام پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں “ ، اور جب کوئی ناپسندیدہ بات دیکھتے تو فرماتے : ” «الحمد لله على كل حال» ہر حال میں اللہ کا شکر ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی اچھی بات دیکھتے تو فرماتے: ” «الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی مہربانی سے تمام نیک کام پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں “، اور جب کوئی ناپسندیدہ بات دیکھتے تو فرماتے: ” «الحمد لله على كل حال» ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3803]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی اچھی بات دیکھتے تو فرماتے: ” «الحمد لله الذي بنعمته تتم الصالحات» تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس کی مہربانی سے تمام نیک کام پایہ تکمیل کو پہنچتے ہیں “، اور جب کوئی ناپسندیدہ بات دیکھتے تو فرماتے: ” «الحمد لله على كل حال» ہر حال میں اللہ کا شکر ہے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3803]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس کی بابت تفصیلی بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت بن جاتی ہے۔
واللہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للألبانى: رقم: 265، وسنن ابن ماجة بتحقيق محمود محمد محمود حسن نصار، رقم: 3803)
(2)
دنیا کی ہر نعمت اور کامیابی اللہ کا احسان ہے۔
مومن کو ہر موقع پر اس کا اعتراف کرتا چاہیے۔
(3)
مشکلات اور مصائب میں بھی اللہ کے احسان کا کوئی نہ کوئی پہلو موجود ہوتا ہے، مثلاً: جب بندہ صبر کرتا ہے تو ثواب اور بلند درجات کا مستحق ہو جاتا ہے، اس لحاظ سے مصیبت کے موقع پر اللہ کا شکر ہی کرنا چاہیے شکوہ نہیں۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے شواہد کی بنا پر حسن قرار دیا ہے اور اس کی بابت تفصیلی بحث کی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہونے کے باوجود دیگر شواہد کی بنا پر قابل عمل اور قابل حجت بن جاتی ہے۔
واللہ أعلم۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الصحيحة للألبانى: رقم: 265، وسنن ابن ماجة بتحقيق محمود محمد محمود حسن نصار، رقم: 3803)
(2)
دنیا کی ہر نعمت اور کامیابی اللہ کا احسان ہے۔
مومن کو ہر موقع پر اس کا اعتراف کرتا چاہیے۔
(3)
مشکلات اور مصائب میں بھی اللہ کے احسان کا کوئی نہ کوئی پہلو موجود ہوتا ہے، مثلاً: جب بندہ صبر کرتا ہے تو ثواب اور بلند درجات کا مستحق ہو جاتا ہے، اس لحاظ سے مصیبت کے موقع پر اللہ کا شکر ہی کرنا چاہیے شکوہ نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3803 سے ماخوذ ہے۔