حدیث نمبر: 3801
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ , حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ بَشِيرٍ مَوْلَى الْعُمَرِيِّينَ , قَالَ : سَمِعْتُ قُدَامَةَ بْنَ إِبْرَاهِيمَ الْجُمَحِيَّ يُحَدِّثُ , أَنَّهُ كَانَ يَخْتَلِفُ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ , وَهُوَ غُلَامٌ وَعَلَيْهِ ثَوْبَانِ مُعَصْفَرَانِ , قَالَ : فَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , حَدَّثَهُمْ : " أَنَّ عَبْدًا مِنْ عِبَادِ اللَّهِ , قَالَ : يَا رَبِّ , لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ , وَلِعَظِيمِ سُلْطَانِكَ , فَعَضَّلَتْ بِالْمَلَكَيْنِ , فَلَمْ يَدْرِيَا كَيْفَ يَكْتُبَانِهَا , فَصَعِدَا إِلَى السَّمَاءِ , وَقَالَا : يَا رَبَّنَا , إِنَّ عَبْدَكَ قَدْ قَالَ مَقَالَةً , لَا نَدْرِي كَيْفَ نَكْتُبُهَا , قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : وَهُوَ أَعْلَمُ بِمَا قَالَ عَبْدُهُ , مَاذَا قَالَ : عَبْدِي ؟ قَالَا : يَا رَبِّ , إِنَّهُ قَالَ : يَا رَبِّ , لَكَ الْحَمْدُ كَمَا يَنْبَغِي لِجَلَالِ وَجْهِكَ , وَعَظِيمِ سُلْطَانِكَ , فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُمَا : اكْتُبَاهَا كَمَا قَالَ عَبْدِي , حَتَّى يَلْقَانِي , فَأَجْزِيَهُ بِهَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیان کیا کہ اللہ کے بندوں میں سے ایک بندے نے یوں کہا : «يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك» ” اے میرے رب ! میں تیری ایسی تعریف کرتا ہوں جو تیری ذات کے جلال اور تیری سلطنت کی عظمت کے لائق ہے “ ، تو یہ کلمہ ان دونوں فرشتوں ( یعنی کراما ً کاتبین ) پر مشکل ہوا ، اور وہ نہیں سمجھ سکے کہ اس کلمے کو کس طرح لکھیں ، آخر وہ دونوں آسمان کی طرف چڑھے اور عرض کیا : اے ہمارے رب ! تیرے بندے نے ایک ایسا کلمہ کہا ہے جسے ہم نہیں جانتے کیسے لکھیں ، اللہ تعالیٰ نے فرمایا : میرے بندے نے کیا کہا ؟ حالانکہ اس کے بندے نے جو کہا اسے وہ خوب جانتا ہے ، ان فرشتوں نے عرض کیا : تیرے بندے نے یہ کلمہ کہا ہے «يا رب لك الحمد كما ينبغي لجلال وجهك ولعظيم سلطانك» تب اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اس کلمہ کو ( ان ہی لفظوں کے ساتھ نامہ اعمال میں ) اسی طرح لکھ دو جس طرح میرے بندے نے کہا : یہاں تک کہ جب میرا بندہ مجھ سے ملے گا تو میں اس وقت اس کو اس کا بدلہ دوں گا “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3801
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن, قال ابي رحمه الله: ’’صدقة بن بشير وثقه ابن ماكولا (الإكمال 1/ 291)‘‘ قلت يعني معاذ: وقدامه بن ابراهيم الجمحي: وثقه ابن حبان في الثقات والهيثمي في المجمع الزوائد وقال الذهبي في تاريخه: صويلح، وصحح حديثه ابو موسي الاصبهاني في اللطائف وقال البوصيري في حديثه: ’’’هذا إسناد صحيح علي شرط ابن حبان‘‘ (اتحاف الخيرة المھرة: 3000)
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 7377 ، ومصباح الزجاجة : 1327 ) ( ضعیف ) » ( صدقہ اور قدامہ دونوں ضعیف ہیں )