حدیث نمبر: 3800
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ , حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ كَثِيرِ بْنِ بَشِيرِ بْنِ الْفَاكِهِ , قَالَ : سَمِعْتُ طَلْحَةَ بْنَ خِرَاشٍ ابْنَ عَمِّ جَابِرٍ , قَالَ : سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ , يَقُولُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَفْضَلُ الذِّكْرِ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ , وَأَفْضَلُ الدُّعَاءِ الْحَمْدُ لِلَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” سب سے بہترین ذکر «لا إله إلا الله» اور سب سے بہترین دعا «الحمد لله» ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: کیونکہ جو کوئی اللہ کی حمد کرے گا اللہ تعالی اس کو اور زیادہ دے گا، پس اس کی سب مرادیں خود بخود پوری ہوں گی الگ الگ مانگنے کی کیا حاجت ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3800
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: حسن
تخریج حدیث «سنن الترمذی/الدعوات 9 ( 3383 ) ، ( تحفة الأشراف : 2286 ) ( حسن ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 3383

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنے والوں کی فضیلت۔`
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہترین ذکر «لا إله إلا الله» اور سب سے بہترین دعا «الحمد لله» ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3800]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
تمام مسنون اذکار رحمت و برکت کا باعث ہیں، لیکن (لَا إِلٰهَ إِلَّا الله)
کا ثواب اور اس کی برکات سب سے زیادہ ہیں۔

(2)
اللہ کی تعریف بھی ایک دعا ہے کیونکہ انسان ثواب کی نیت سے نیکی اور ذکر کرتا ہے، اس طرح اسے مطلوب (ثواب)
حاصل ہو جاتا ہے۔

(3)
ایک مطلب یہ بھی ہے کہ سب سے افضل دعا سورۂ فاتحہ ہے جسے حدیث (اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ)
سے بیان کیا گیا ہے۔
اس میں اللہ کی تعریف بھی ہے اور اس سے ہدایت، انعام اور مدد کی دعا بھی۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3800 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 3383 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´مسلمان کی دعا کے مقبول ہونے کا بیان۔`
جابر بن عبداللہ رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: سب سے بہتر ذکر «لا إلہ إلا اللہ» ہے، اور بہترین دعا «الحمد للہ» ہے ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الدعوات/حدیث: 3383]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎: (لَا إِلٰهَ إِلَّا الله) افضل ترین ذکر اس لیے ہے کہ یہ اصل التوحید ہے اور توحید کے مثل کوئی نیکی نہیں، نیز یہ شرک کو سب سے زیادہ نفی کرنے والا جملہ ہے، اور یہ دونوں باتیں اللہ کو سب سے زیادہ پسند ہیں، اور (الحمد لله) سب سے افضل دعاء اس معنی کر کے ہے کہ جو بندہ اللہ کی حمد کرتا ہے وہ اللہ کی نعمتوں کا شکریہ ادا کرتا ہے، اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ﴿لَئِنْ شَكَرْتُمْ لَأَزِيْدَنَّكُمْ﴾ (اگرتم میرا شکرادا کرو گے تو میں تم کو اور زیادہ دوں گا) تو اس سے بہتر طلب (دعاء) اور کیا ہو گی، اور بعض علماء کا کہنا ہے کہ (الحمد لله) سے اشارہ ہے سورہ الحمدللہ میں جو دعاء اس کی طرف، یعنی ﴿إِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيْم﴾ اور یہ سب سے افضل دعاء ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 3383 سے ماخوذ ہے۔