حدیث نمبر: 3792
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصْعَبٍ , عَنْ الْأَوْزَاعِيِّ , عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ , يَقُولُ : أَنَا مَعَ عَبْدِي إِذَا هُوَ ذَكَرَنِي , وَتَحَرَّكَتْ بِي شَفَتَاهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں ، جب وہ میرا ذکر کرتا ہے ، اور اس کے ہونٹ میرے ذکر کی وجہ سے حرکت میں ہوتے ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3792
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 15512 ، ومصباح الزجاجة : 1323 ) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التوحید 43 تعلیقا ، مسند احمد ( 2/540 ) ( صحیح ) » ( سند میں محمد بن مصعب قرقسانی صدوق اور کثیر الغلط راوی ہیں ، ابن حبان کے یہاں ایوب بن سوید نے ان کی متابعت کی ہے ، بوصیری نے سند کو حسن کہا ہے ، اور البانی نے شاہد کی بناء پر صحیح کہا ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ذکر الٰہی کی فضیلت۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ میں اپنے بندے کے ساتھ ہوتا ہوں، جب وہ میرا ذکر کرتا ہے، اور اس کے ہونٹ میرے ذکر کی وجہ سے حرکت میں ہوتے ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3792]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
اللہ تعالیٰ کی عام معیت تو ہر مخلوق کے ساتھ ہے کہ وہ اپنے علم اور قدرت کے لحاظ سے ہر ایک کے ساتھ ہے۔
ایک معیت مدد اور نصرت کی ہوتی ہے جو اس کی راہ میں جد و جہد یا جنگ کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہے۔
یہ بھی ایسی ہی معیت ہے جو ذکر کرنے والوں کو حاصل ہوتی ہے، اس کا مقصد خوشنودی کا اظہار ہے۔

(2)
اللہ تعالیٰ ذاتی طور پر ہر جگہ موجود نہیں بلکہ آسمانوں پر عرش عظیم کے اوپر ہے جیسا کہ قرآن و حدیث کی صریح نصوص سے ثابت ہے۔
فرمان باری تعالیٰ ہے: ﴿ا لرَّ‌حمـٰنُ عَلَى العَر‌شِ استَوىٰ ﴾ (طه 20: 5)

(3)
اللہ کا ذکر بہت بڑی نیکی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3792 سے ماخوذ ہے۔