حدیث نمبر: 3782
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ , أَنْ يَجِدَ فِيهِ ثَلَاثَ خَلِفَاتٍ عِظَامٍ سِمَانٍ " ، قُلْنَا : نَعَمْ , قَالَ : " فَثَلَاثُ آيَاتٍ يَقْرَؤُهُنَّ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ , خَيْرٌ لَهُ مِنْ ثَلَاثِ خَلِفَاتٍ سِمَانٍ عِظَامٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹ کر جائے تو اسے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں گھر پر بندھی ہوئی ملیں “ ؟ ہم نے عرض کیا : جی ہاں ( کیوں نہیں ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں تین آیتیں پڑھتا ہے ، تو یہ اس کے لیے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیوں سے افضل ہیں “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3782
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/المسافرین 41 ( 802 ) ، ( تحفة الأشراف : 12471 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/396 ، 466 ، 496 ) سنن الدارمی/فضائل القرآن 1 ( 3357 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 802

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ جب وہ اپنے گھر لوٹ کر جائے تو اسے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیاں گھر پر بندھی ہوئی ملیں ؟ ہم نے عرض کیا: جی ہاں (کیوں نہیں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جب کوئی شخص نماز میں تین آیتیں پڑھتا ہے، تو یہ اس کے لیے تین بڑی موٹی حاملہ اونٹنیوں سے افضل ہیں۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3782]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
  قرآن مجید کی تلاوت کا فائدہ اتنا زیادہ ہے کہ دنیا کی بڑی سے بڑی دولت اس کے مقابلے میں ہیچ ہے۔

(2)
حاملہ اونٹنیوں کا ذکر اس لیے فرمایا کہ اس دور میں عربوں کے نزدیک یہ سب سے عمدہ اور قیمتی مال تھا۔

(3)
نماز میں تلاوت کا ثواب نماز کے علاوہ تلاوت سے زیادہ ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3782 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 802 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کیا تم میں سے کوئی شخص پسند کرتا ہے کہ جب اپنے گھر واپس آئے تو اس میں تین حاملہ بڑی بڑی فربہ اونٹنیاں پائے؟ ‘‘ ہم نے عرض کیا، جی ہاں آپﷺ نے فرمایا: ’’تین آیات جنہیں تم میں سے کوئی شخص اپنی نماز میں پڑھتا ہے، وہ اسکے لیے تین حاملہ بھاری بھرکم اور موٹی تازی اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1872]
حدیث حاشیہ: مفردات الحدیث:
(1)
خَلِفات: خَلِفَةٌ کی جمع ہے، اس حاملہ اونٹنی کو کہتے ہیں جس کی آدھی مدت حمل گزر چکی ہو۔
(2)
عِظَام: عظیم کی جمع ہے، قد و قامت میں بڑی، سِمَان، سَمِيْن کی جمع فربہ، موٹی تازی۔
فوائد ومسائل: ایک مسلمان کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول کے وعدوں پر یقین رکھتے ہوئے نماز پڑھتا ہے اور اس میں انتہائی احترام و عقیدت سے قرآءت کرتا ہے ایک آیت کا اجرو ثواب ایک موٹی تازی اور بھاری بھر کم حاملہ اونٹنی کے مل جانے سے بہتر ہے اور اہل عرب کے ہاں اونٹ ہی سب سے اعلیٰ و عمدہ اور قیمتی سواری تھی جو ان کے سفر و حضر، امن و جنگ کا ساتھی تھا گویا ایک مسلمان کے لیے سب سے قیمتی سامان اور اعلیٰ ثروت نیکیاں ہیں جو آخرت کی لازوال زندگی میں کام آنے والی ہیں یہ دنیا کا عارضی و فانی مال نہیں چاہے وہ کتنا ہی قیمتی اور عمدہ کیوں نہ ہو۔
آخر فانی ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 802 سے ماخوذ ہے۔