سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : ثَوَابِ الْقُرْآنِ باب: تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان۔
حدیث نمبر: 3780
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى , أَنْبَأَنَا شَيْبَانُ , عَنْ فِرَاسٍ , عَنْ عَطِيَّةَ , عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ إِذَا دَخَلَ الْجَنَّةَ : اقْرَأْ وَاصْعَدْ , فَيَقْرَأُ وَيَصْعَدُ بِكُلِّ آيَةٍ دَرَجَةً , حَتَّى يَقْرَأَ آخِرَ شَيْءٍ مَعَهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قرآن والے ( قرآن کی تلاوت کرنے والے سے ، یا حافظ قرآن سے ) سے جب وہ جنت میں داخل ہو گا کہا جائے گا : ” پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا ، تو وہ پڑھتا اور چڑھتا چلا جائے گا ، وہ ہر آیت کے بدلے ایک درجہ ترقی کرتا چلا جائے گا ، یہاں تک کہ جو اسے یاد ہو گا وہ سب پڑھ جائے گا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´تلاوت قرآن کے ثواب کا بیان۔`
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن والے (قرآن کی تلاوت کرنے والے سے، یا حافظ قرآن سے) سے جب وہ جنت میں داخل ہو گا کہا جائے گا: ” پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا، تو وہ پڑھتا اور چڑھتا چلا جائے گا، وہ ہر آیت کے بدلے ایک درجہ ترقی کرتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ جو اسے یاد ہو گا وہ سب پڑھ جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3780]
ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” قرآن والے (قرآن کی تلاوت کرنے والے سے، یا حافظ قرآن سے) سے جب وہ جنت میں داخل ہو گا کہا جائے گا: ” پڑھتا جا اور اوپر چڑھتا جا، تو وہ پڑھتا اور چڑھتا چلا جائے گا، وہ ہر آیت کے بدلے ایک درجہ ترقی کرتا چلا جائے گا، یہاں تک کہ جو اسے یاد ہو گا وہ سب پڑھ جائے گا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3780]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے قرآن مجید کے حافظ اور کثرت سے اس کی تلاوت کرنے والے کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے۔
(2)
اگر پورا قرآن مجید یاد نہ ہو تو بھی جتنا یاد ہے اس کے مطابق درجات بلند ہوں گے۔
(3)
اس حدیث میں تلاوت اور حفظ قرآن کی ترغیب ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
اس سے قرآن مجید کے حافظ اور کثرت سے اس کی تلاوت کرنے والے کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے۔
(2)
اگر پورا قرآن مجید یاد نہ ہو تو بھی جتنا یاد ہے اس کے مطابق درجات بلند ہوں گے۔
(3)
اس حدیث میں تلاوت اور حفظ قرآن کی ترغیب ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3780 سے ماخوذ ہے۔