سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : تَتْرِيبِ الْكِتَابِ باب: خط لکھ کر اس پر مٹی ڈالنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3774
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا بَقِيَّةُ , أَنْبَأَنَا أَبُو أَحْمَدَ الدِّمَشْقِيُّ , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " تَرِّبُوا صُحُفَكُمْ أَنْجَحُ لَهَا , إِنَّ التُّرَابَ مُبَارَكٌ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم خط لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈال دیا کرو ، اس سے تمہاری مراد پوری ہو گی کیونکہ مٹی مبارک چیز ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2713 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´خط لکھ کر اس پر مٹی ڈالنے کا بیان۔`
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈالنا چاہیئے، کیونکہ اس سے حاجت برآری کی زیادہ توقع ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2713]
جابر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی تحریر لکھے تو لکھنے کے بعد اس پر مٹی ڈالنا چاہیئے، کیونکہ اس سے حاجت برآری کی زیادہ توقع ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الاستئذان والآداب/حدیث: 2713]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
تحریر پھیلی اور بگڑی ہوئی نہیں بلکہ صاف وستھری رہے گی تو جس مقصد کے لیے لکھی گئی ہو گی، اس مقصد کے جلد حاصل ہونے کی امید کی جائے گی۔
نوٹ:
(سند میں حمزۃ بن عمرو متروک الحدیث ہے اور ابوزبیر مکی مدلس ہیں اورروایت عنعنہ سے ہے، اورا بن ماجہ کی سند میں بقیہ ہیں اور روایت ابواحمد دمشقی سے ہے جو مجہول ہیں) (ضعیف) (الضعیفة: 1738)
وضاحت:
1؎:
تحریر پھیلی اور بگڑی ہوئی نہیں بلکہ صاف وستھری رہے گی تو جس مقصد کے لیے لکھی گئی ہو گی، اس مقصد کے جلد حاصل ہونے کی امید کی جائے گی۔
نوٹ:
(سند میں حمزۃ بن عمرو متروک الحدیث ہے اور ابوزبیر مکی مدلس ہیں اورروایت عنعنہ سے ہے، اورا بن ماجہ کی سند میں بقیہ ہیں اور روایت ابواحمد دمشقی سے ہے جو مجہول ہیں) (ضعیف) (الضعیفة: 1738)
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2713 سے ماخوذ ہے۔