سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : رُكُوبِ ثَلاَثَةٍ عَلَى دَابَّةٍ باب: ایک سواری پر تین آدمیوں کے سوار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3773
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحِيمِ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَاصِمٍ , حَدَّثَنَا مُوَرِّقٌ الْعِجْلِيُّ , حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ , قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قَدِمَ مِنْ سَفَرٍ تُلُقِّيَ بِنَا , قَالَ : فَتُلُقِّيَ بِي وَبِالْحَسَنِ أَوْ بِالْحُسَيْنِ , قَالَ : " فَحَمَلَ أَحَدَنَا بَيْنَ يَدَيْهِ , وَالْآخَرَ خَلْفَهُ , حَتَّى قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے تشریف لاتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے ، ایک بار میں نے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا ، تو آپ نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے آگے ، اور دوسرے کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا ، یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´ایک سواری پر تین آدمیوں کے سوار ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے تشریف لاتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، ایک بار میں نے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا، تو آپ نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے آگے، اور دوسرے کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3773]
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے تشریف لاتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، ایک بار میں نے اور حسن یا حسین رضی اللہ عنہما نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا استقبال کیا، تو آپ نے ہم دونوں میں سے ایک کو اپنے آگے، اور دوسرے کو اپنے پیچھے سواری پر بٹھا لیا، یہاں تک کہ ہم مدینہ پہنچ گئے۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3773]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
بزرگوں کو چاہیے کہ بچوں سے شفقت کا سلوک کریں۔
(2)
سفر سے واپس آنے والے کا استقبال کرنا درست ہے لیکن اس میں بے جا تکلفات کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
جانور پر ایک سے زیادہ افراد سوار ہو سکتے ہیں بشرطیکہ جانور آسانی سے بوجھ برداشت کر سکے۔
لمبے سفر میں یا کمزور جانور پر دو افراد کا سوار ہونا مناسب نہیں۔
(4)
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ اور حسن یا حسین ؓ بچے تھے۔
ان دونوں کا بوجھ مل کر بھی ایک بڑے آدمی کے برابر نہیں تھا، اس لیے تین افراد کا سوار ہونا جانور کے لیے مشقت کا باعث نہیں تھا۔
فوائد و مسائل:
(1)
بزرگوں کو چاہیے کہ بچوں سے شفقت کا سلوک کریں۔
(2)
سفر سے واپس آنے والے کا استقبال کرنا درست ہے لیکن اس میں بے جا تکلفات کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
جانور پر ایک سے زیادہ افراد سوار ہو سکتے ہیں بشرطیکہ جانور آسانی سے بوجھ برداشت کر سکے۔
لمبے سفر میں یا کمزور جانور پر دو افراد کا سوار ہونا مناسب نہیں۔
(4)
حضرت عبداللہ بن جعفر ؓ اور حسن یا حسین ؓ بچے تھے۔
ان دونوں کا بوجھ مل کر بھی ایک بڑے آدمی کے برابر نہیں تھا، اس لیے تین افراد کا سوار ہونا جانور کے لیے مشقت کا باعث نہیں تھا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3773 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 2566 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´تین آدمیوں کا ایک ہی جانور پر سوار ہونے کا بیان۔`
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے، چنانچہ (ایک بار) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح (سواری پر) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2566]
عبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سفر سے آتے تو ہم لوگ آپ کے استقبال کے لیے جاتے، جو ہم میں سے پہلے پہنچتا اس کو آپ آگے بٹھا لیتے، چنانچہ (ایک بار) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اپنے سامنے پایا تو مجھے اپنے آگے بٹھا لیا، پھر حسن یا حسین پہنچے تو انہیں اپنے پیچھے بٹھا لیا، پھر ہم مدینہ میں اسی طرح (سواری پر) بیٹھے ہوئے داخل ہوئے۔ [سنن ابي داود/كتاب الجهاد /حدیث: 2566]
فوائد ومسائل:
1۔
اشراف اور معزز لوگوں کا شہر سے باہر نکل کر استقبال کرنا مباح ہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ بچوں سے محبت کرتے تھے۔
اور انھیں عزت بھی دیتے تھے۔
3۔
جانورکی صحت اور طاقت کے لہاظ سے اس پر دو یا تین افراد کا سوار ہو جانا ظلم نہیں مباح ہے۔
1۔
اشراف اور معزز لوگوں کا شہر سے باہر نکل کر استقبال کرنا مباح ہے۔
2۔
رسول اللہ ﷺ بچوں سے محبت کرتے تھے۔
اور انھیں عزت بھی دیتے تھے۔
3۔
جانورکی صحت اور طاقت کے لہاظ سے اس پر دو یا تین افراد کا سوار ہو جانا ظلم نہیں مباح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 2566 سے ماخوذ ہے۔