سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : النَّهْيِ عَنِ النُّزُولِ عَلَى الطَّرِيقِ باب: راستہ میں ڈیرہ ڈالنا منع ہے۔
حدیث نمبر: 3772
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا هِشَامٌ , عَنْ الْحَسَنِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَنْزِلُوا عَلَى جَوَادِّ الطَّرِيقِ , وَلَا تَقْضُوا عَلَيْهَا الْحَاجَاتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” تم نہ راستہ کے درمیان قیام کرو ، اور نہ وہاں قضائے حاجت کرو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: کیونکہ آنے جانے والوں کو اس سے تکلیف ہو گی، دین اسلام نے کوئی بات نہیں چھوڑی یہاں تک صفائی کا انتظام بھی اس میں موجود ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´راستہ میں ڈیرہ ڈالنا منع ہے۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم نہ راستہ کے درمیان قیام کرو، اور نہ وہاں قضائے حاجت کرو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3772]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” تم نہ راستہ کے درمیان قیام کرو، اور نہ وہاں قضائے حاجت کرو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3772]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اس کے شواہد ذکر کیے ہیں جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے، لہٰذا مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الأمام إحمد: 22/ 179، 181، والصحيحة للألباني، رقم: 2433)
بنا بریں سفر کے دوران میں رات کو کہیں رکنے کی ٖضرور ت پیش آئے تو راسے سے ہٹ کر آرام کرنا چاہیے۔
(2)
سفر کے دوران میں گاڑی روکنے کی ضرورت ہو تو ایسی جگہ روکی جائے جہاں ٹریفک کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہ پڑے۔
(3)
راستے پر قضائے حاجت کرنے سے گزرنے والوں کو پریشانی ہوتی ہے۔
(4)
غیر ضروری اور تکلیف دہ اشیاء راستے میں پھینکنا بری بات ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے جبکہ دیگر محققین نے اسے صحیح قرار دیا ہے اور اس کے شواہد ذکر کیے ہیں جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے، لہٰذا مذکورہ روایت دیگر شواہد کی بنا پر قابل حجت ہے۔
مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الأمام إحمد: 22/ 179، 181، والصحيحة للألباني، رقم: 2433)
بنا بریں سفر کے دوران میں رات کو کہیں رکنے کی ٖضرور ت پیش آئے تو راسے سے ہٹ کر آرام کرنا چاہیے۔
(2)
سفر کے دوران میں گاڑی روکنے کی ضرورت ہو تو ایسی جگہ روکی جائے جہاں ٹریفک کی آمد و رفت میں رکاوٹ نہ پڑے۔
(3)
راستے پر قضائے حاجت کرنے سے گزرنے والوں کو پریشانی ہوتی ہے۔
(4)
غیر ضروری اور تکلیف دہ اشیاء راستے میں پھینکنا بری بات ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3772 سے ماخوذ ہے۔