حدیث نمبر: 3770
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ , عَنْ بُرَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ , عَنْ أَبِي بُرْدَةَ , عَنْ أَبِي مُوسَى , قَالَ : احْتَرَقَ بَيْتٌ بِالْمَدِينَةِ عَلَى أَهْلِهِ , فَحُدِّثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَأْنِهِمْ , فَقَالَ : " إِنَّمَا هَذِهِ النَّارُ عَدُوٌّ لَكُمْ , فَإِذَا نِمْتُمْ فَأَطْفِئُوهَا عَنْكُمْ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` مدینہ کا ایک گھر لوگوں سمیت جل گیا جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ واقعہ بیان کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بیشک آگ تمہاری دشمن ہے ، لہٰذا جب تم سونے لگو ، تو آگ بجھا دیا کرو “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3770
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «صحیح البخاری/الاستئذان 49 ( 6294 ) ، صحیح مسلم/الأشربة 12 ( 2016 ) ، ( تحفة الأشراف : 9048 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/399 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح البخاري: 6294 | صحيح مسلم: 2016

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6294 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6294. حضرت ابو موسیٰ اشعری ؓ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا کہ مدینہ طیبہ میں ایک گھر رات کے وقت خانہ سمیت جل گیا۔ نبی ﷺ کو ان کے متعلق بتایا گیا تو آپ نے فرمایا: آگ تمہاری دشمن ہے، اس لیے جب سونے لگو تو اسے بجھا دیا کرو۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6294]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث میں آگ بجھا کر سونے کی حکمت بیان کی گئی ہے کہ اس سے جلنے کا اندیشہ ہوتا ہے، پھر یہ آگ عام ہے چراغ کی ہو یا چولہے میں جلنے والی، اس کے علاوہ گیس ہیٹر اور بجلی کے قمقموں کا بھی یہی حکم ہے۔
(2)
آگ کو دشمن سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ اس سے جانی اور مالی نقصان کا اندیشہ رہتا ہے، جس طرح ایک دشمن سے خطرہ ہوتا ہے اگرچہ اس میں بے شمار فوائد بھی ہیں۔
(فتح الباري: 103/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6294 سے ماخوذ ہے۔