حدیث نمبر: 3765
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ , عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَجُلًا يَتْبَعُ حَمَامَةً , فَقَالَ : " شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانَةً " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو کبوتر کے پیچھے لگا ہوا دیکھا ، تو فرمایا : ” شیطان شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3765
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأدب 65 ( 4940 ) ، ( تحفة الأشراف : 15012 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 2/345 ) ( حسن صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 4940

تشریح، فوائد و مسائل

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4940 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´کبوتر بازی کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ کبوتری کا (اپنی نظروں سے) پیچھا کر رہا ہے (یعنی اڑا رہا ہے) تو آپ نے فرمایا: ایک شیطان ایک شیطانہ کا پیچھا کر رہا ہے ۱؎۔‏‏‏‏ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4940]
فوائد ومسائل:
کبوتر بازی، بٹیر بازی، مرغ لڑانا وغیرہ سب ناجائز مشاغل ہیں، ہاں اگر بطور تجارت یا زینت گھر میں رکھے ہوں تو جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4940 سے ماخوذ ہے۔