سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : اللَّعِبِ بِالْحَمَامِ باب: کبوتر بازی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3764
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ زُرَارَةَ , حَدَّثَنَا شَرِيكٌ , عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو , عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ , عَنْ عَائِشَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَظَرَ إِلَى إِنْسَانٍ يَتْبَعُ طَائِرًا , فَقَالَ : " شَيْطَانٌ يَتْبَعُ شَيْطَانًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک پرندہ کے پیچھے لگا ہوا تھا ، یعنی اسے اڑا رہا تھا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” شیطان ہے ، جو شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اڑانے والا اس لئے شیطان ہے کہ وہ اللہ تعالی سے غافل اور بے پرواہ ہے، اور پرندہ اس لئے شیطان ہے کہ وہ اڑانے والے کی غفلت کا سبب بنا ہے۔ پرندوں کو کسی جائز مقصد کے لیے پالنا جائز ہے، تاہم اگر محض تفریح کے لیے ہوں اور وقت کے ضیاع کا باعث ہوں تو ان سے بچنا چاہیے۔ ہر وہ مشغلہ جس کو جائز حد سے زیادہ اہمیت دی جائے اور اس پر وقت اور مال ضائع کیا جائے وہ ممنوع ہے۔ کبوتر بازی کی طرح پتنگ بازی بھی فضول اور خطرناک مشغلہ ہے اس سے بھی اجتناب ضروری ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´کبوتر بازی کا بیان۔`
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک پرندہ کے پیچھے لگا ہوا تھا، یعنی اسے اڑا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شیطان ہے، جو شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3764]
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو دیکھا جو ایک پرندہ کے پیچھے لگا ہوا تھا، یعنی اسے اڑا رہا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” شیطان ہے، جو شیطان کے پیچھے لگا ہوا ہے “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3764]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
پرندوں کو کسی جائز مقصد کے لیے پالنا جائز ہے، تا ہم اگر محض تفریح کے لیے ہوں اور وقت کے ضیاع کا باعث ہوں تو ان سے بچنا چاہیے۔
(2)
ہر وہ مشکل جس کو جائز حد سے زیادہ اہمیت دی جائے اور اس پر وقت اور مال ضائع کیا جائے، وہ ممنوع ہے۔
(3)
کبوتر بازی کی طرح پتنگ بازی بھی فضول اور خطرناک مشغلہ ہے۔
اس سے بھی اجتناب ضروری ہے۔
(4)
کبوتر کو شیطان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے مفاسد کی وجہ سے شیطان خوش ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
پرندوں کو کسی جائز مقصد کے لیے پالنا جائز ہے، تا ہم اگر محض تفریح کے لیے ہوں اور وقت کے ضیاع کا باعث ہوں تو ان سے بچنا چاہیے۔
(2)
ہر وہ مشکل جس کو جائز حد سے زیادہ اہمیت دی جائے اور اس پر وقت اور مال ضائع کیا جائے، وہ ممنوع ہے۔
(3)
کبوتر بازی کی طرح پتنگ بازی بھی فضول اور خطرناک مشغلہ ہے۔
اس سے بھی اجتناب ضروری ہے۔
(4)
کبوتر کو شیطان کہنے کی وجہ یہ ہے کہ اس کے مفاسد کی وجہ سے شیطان خوش ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3764 سے ماخوذ ہے۔