حدیث نمبر: 3753
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا الْهِقْلُ بْنُ زِيَادٍ , حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ الْأَسْلَمِيِّ , عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ , عَنْ أَبِيهِ , عَنْ جَدِّهِ , أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " لَا يَقُصُّ عَلَى النَّاسِ , إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُرَاءٍ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو ، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو ، یا جو ریا کار ہو “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: اور ریاکار وہ ہے جو لوگوں میں اپنی ناموری اور شہرت کے لئے وعظ کہتا ہے، اور لوگوں کو بری بات سے منع کرتا ہے، اور خود سب سے زیادہ برے کاموں میں پھنسا رہتا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´وعظ و نصیحت کرنے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو، یا جو ریا کار ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3753]
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لوگوں کو وعظ و نصیحت وہی کرتا ہے جو حاکم ہو، یا وہ شخص جو حاکم کی جانب سے مقرر ہو، یا جو ریا کار ہو “ ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3753]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
انبیائے کرام ؑ اور سلف صالحین کے واقعات بیان کر کے عوام کو وعظ و نصیحت کرنا ایک اہم منصب ہے۔
(2)
اسلامی حکومت میں خطبہ دینا حکمران کا حق ہے۔
مختلف شہروں میں اپنے نائب (گورنر اور مقامی حکام)
مقرر کرنا بھی اس کا فرض ہے جو اپنے اپنے مقام پر عوام کی دینی رہنمائی کریں اور انتظامی معاملات کی نگرانی اور رہنمائی بھی کریں۔
(3)
شرعی امیر کی اجازت کے بغیر وعظ کرنے کا مقصد اپنی علمیت کا اظہار ہو سکتا ہے جو ریا کاری ہے۔
(4)
جب اسلامی سلطنت قائم نہ ہو تو ہر عالم عوام کی دینی رہنمائی کا ذمہ دار ہے لیکن دین کے علم سے بے بہرہ شخص محض اپنی قوت بیان کے زور پر عوامی قائد بننے کی کوشش کرے گا تو گمراہی پھیلانے کا باعث ہوگا۔
فوائد و مسائل:
(1)
انبیائے کرام ؑ اور سلف صالحین کے واقعات بیان کر کے عوام کو وعظ و نصیحت کرنا ایک اہم منصب ہے۔
(2)
اسلامی حکومت میں خطبہ دینا حکمران کا حق ہے۔
مختلف شہروں میں اپنے نائب (گورنر اور مقامی حکام)
مقرر کرنا بھی اس کا فرض ہے جو اپنے اپنے مقام پر عوام کی دینی رہنمائی کریں اور انتظامی معاملات کی نگرانی اور رہنمائی بھی کریں۔
(3)
شرعی امیر کی اجازت کے بغیر وعظ کرنے کا مقصد اپنی علمیت کا اظہار ہو سکتا ہے جو ریا کاری ہے۔
(4)
جب اسلامی سلطنت قائم نہ ہو تو ہر عالم عوام کی دینی رہنمائی کا ذمہ دار ہے لیکن دین کے علم سے بے بہرہ شخص محض اپنی قوت بیان کے زور پر عوامی قائد بننے کی کوشش کرے گا تو گمراہی پھیلانے کا باعث ہوگا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3753 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: مشكوة المصابيح / حدیث: 241 کی شرح از حافظ زبیر علی زئی ✍️
´قرآنی علم کی تین اقسام`
«. . . وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَفِي رِوَايَته بدل «أَو مختال» . . .»
”. . . دارمی نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے اس نے اپنے باپ اس نے اپنے دادا سے بیان کیا ہے۔ اس کی روایت میں ”متکبر“ کی جگہ ”ریاکار“ کا ذکر ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 241]
«. . . وَرَوَاهُ الدَّارِمِيُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ وَفِي رِوَايَته بدل «أَو مختال» . . .»
”. . . دارمی نے اس حدیث کو عمرو بن شعیب سے اس نے اپنے باپ اس نے اپنے دادا سے بیان کیا ہے۔ اس کی روایت میں ”متکبر“ کی جگہ ”ریاکار“ کا ذکر ہے۔ . . .“ [مشكوة المصابيح/كِتَاب الْعِلْمِ: 241]
تحقیق الحدیث:
صحیح ہے۔
دارمی [2782] اور ابن ماجہ [3753] کی سند میں عبداللہ بن عامر الاسلمی ضعیف راوی ہے، لیکن عبدالرحمٰن بن حرملہ بن عمرو الاسلمی (صدوق حسن الحدیث، و ثقہ الجمہور) نے اس کی متابعت تامہ کر رکھی ہے، یعنی یہی حدیث «عمرو بن شعيب سے عن ابيه عن جده» کی سند سے روایت کی ہے۔ ديكهئے: [مسند أحمد 178/2 وسنده حسن]
لہٰذا یہ روایت صحیح لغیرہ ہے۔ فقہ الحدیث کے لئے دیکھئے: [اضواء المصابيح حديث: 240، ابوداود: 3665]
صحیح ہے۔
دارمی [2782] اور ابن ماجہ [3753] کی سند میں عبداللہ بن عامر الاسلمی ضعیف راوی ہے، لیکن عبدالرحمٰن بن حرملہ بن عمرو الاسلمی (صدوق حسن الحدیث، و ثقہ الجمہور) نے اس کی متابعت تامہ کر رکھی ہے، یعنی یہی حدیث «عمرو بن شعيب سے عن ابيه عن جده» کی سند سے روایت کی ہے۔ ديكهئے: [مسند أحمد 178/2 وسنده حسن]
لہٰذا یہ روایت صحیح لغیرہ ہے۔ فقہ الحدیث کے لئے دیکھئے: [اضواء المصابيح حديث: 240، ابوداود: 3665]
درج بالا اقتباس اضواء المصابیح فی تحقیق مشکاۃ المصابیح، حدیث/صفحہ نمبر: 241 سے ماخوذ ہے۔