حدیث نمبر: 3752
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ , عَنْ كَامِلٍ أَبِي الْعَلَاءِ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " اطَّلَى وَوَلِيَ عَانَتَهُ بِيَدِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرمگاہ پر اپنے ہاتھ سے خود بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگایا ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3752
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, ۔3752] إسناده ضعيف, قال البوصيري: ’’ رجاله ثقات وھو منقطع،حبيب بن أبي ثابت لم يسمع من أم سلمة ‘‘, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 511
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 18147 ، ومصباح الزجاجة : 1312 ) ( ضعیف ) » ( حبیب بن أبی ثابت اور ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے درمیان انقطاع کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے )
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 3751

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بال صاف کرنے کے لیے چونے کا پتھر (بال صفا پاؤڈر) لگانے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرمگاہ پر اپنے ہاتھ سے خود بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3752]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں، اس لیے نا قابل استد لال ہیں، تا ہم دوسر ے دلائل سے مسئلے کی نوعیت واضح ہوتی ہے کہ زیر ناف اور بغلوں کے بالوں کوجس طرح بھی صاف کر لیا جائے، جائز ہے، البتہ بغلوں کے بال اکھیڑنا مستحب ہے کیونکہ ان کی صفائی کا حکم ہے، تاہم بدن کے دوسرے حصوں کے بالوں کی صفائی تغیر لخلق اللہ کی وعید میں آسکتی ہے۔
علاوہ ازیں اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت بھی ہو جاتی ہے۔
ان دو وجوہ سے جسم کے دوسرے حصوں کے بالوں کی صفائی ممنوع اور ناجائز ہوگی۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3752 سے ماخوذ ہے۔