سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : الاِطِّلاَءِ بِالنُّورَةِ باب: بال صاف کرنے کے لیے چونے کا پتھر (بال صفا پاؤڈر) لگانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3751
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ أَبِي هَاشِمٍ الرُّمَّانِيِّ , عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ , عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَانَ " إِذَا اطَّلَى , بَدَأَ بِعَوْرَتِهِ فَطَلَاهَا بِالنُّورَةِ , وَسَائِرَ جَسَدِهِ أَهْلُهُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگاتے تو پہلے آپ اپنی شرمگاہ پر ملتے ، پھر باقی بدن پر آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ملتیں ۔
تشریح، فوائد و مسائل
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 3752 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´بال صاف کرنے کے لیے چونے کا پتھر (بال صفا پاؤڈر) لگانے کا بیان۔`
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرمگاہ پر اپنے ہاتھ سے خود بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3752]
ام المؤمنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی شرمگاہ پر اپنے ہاتھ سے خود بال صاف کرنے کا پاؤڈر لگایا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3752]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں، اس لیے نا قابل استد لال ہیں، تا ہم دوسر ے دلائل سے مسئلے کی نوعیت واضح ہوتی ہے کہ زیر ناف اور بغلوں کے بالوں کوجس طرح بھی صاف کر لیا جائے، جائز ہے، البتہ بغلوں کے بال اکھیڑنا مستحب ہے کیونکہ ان کی صفائی کا حکم ہے، تاہم بدن کے دوسرے حصوں کے بالوں کی صفائی تغیر لخلق اللہ کی وعید میں آسکتی ہے۔
علاوہ ازیں اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت بھی ہو جاتی ہے۔
ان دو وجوہ سے جسم کے دوسرے حصوں کے بالوں کی صفائی ممنوع اور ناجائز ہوگی۔
واللہ أعلم۔
فوائد و مسائل:
یہ دونوں روایات ضعیف ہیں، اس لیے نا قابل استد لال ہیں، تا ہم دوسر ے دلائل سے مسئلے کی نوعیت واضح ہوتی ہے کہ زیر ناف اور بغلوں کے بالوں کوجس طرح بھی صاف کر لیا جائے، جائز ہے، البتہ بغلوں کے بال اکھیڑنا مستحب ہے کیونکہ ان کی صفائی کا حکم ہے، تاہم بدن کے دوسرے حصوں کے بالوں کی صفائی تغیر لخلق اللہ کی وعید میں آسکتی ہے۔
علاوہ ازیں اس میں عورتوں کے ساتھ مشابہت بھی ہو جاتی ہے۔
ان دو وجوہ سے جسم کے دوسرے حصوں کے بالوں کی صفائی ممنوع اور ناجائز ہوگی۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3752 سے ماخوذ ہے۔