حدیث نمبر: 3750
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ سُفْيَانَ , عَنْ مَنْصُورٍ , عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ , عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيِّ , أَنَّ نِسْوَةً مِنْ أَهَلْ حِمْصَ اسْتَأْذَنَّ عَلَى عَائِشَةَ , فَقَالَتْ : لَعَلَّكُنَّ مِنَ اللَّوَاتِي يَدْخُلْنَ الْحَمَّامَاتِ , سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ وَضَعَتْ ثِيَابَهَا فِي غَيْرِ بَيْتِ زَوْجِهَا , فَقَدْ هَتَكَتْ سِتْرَ مَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ اللَّهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ` حمص کی کچھ عورتوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں ، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ” جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے اس پردہ کو پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: حمص: جو ملک شام میں ایک مشہور شہر کا نام ہے۔ یعنی اللہ تعالی نے پاک عورتوں کو تقویٰ پرہیز گاری اور عصمت کا جو پردہ اڑھایا ہے، وہ ایسا کرنے سے پھٹ جاتا ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3750
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الحمام 1 ( 4010 ) ، سنن الترمذی/الأدب 43 ( 2803 ) ، ( تحفة الأشراف : 17804 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 6/ 173 ، 198 ، سنن الدارمی/الاستئذان 23 ( 2693 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ترمذي: 2803 | سنن ابي داود: 4010

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´حمام میں داخل ہونے کا بیان۔`
ابوملیح ہذلی سے روایت ہے کہ حمص کی کچھ عورتوں نے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے ملاقات کی اجازت طلب کی تو انہوں نے کہا کہ شاید تم ان عورتوں میں سے ہو جو حمام میں جاتی ہیں، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جس عورت نے اپنے شوہر کے گھر کے علاوہ کسی اور جگہ اپنے کپڑے اتارے تو اس نے اس پردہ کو پھاڑ ڈالا جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3750]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
حمام کا لفظ حمیم (گرم پانی)
سے بنایا گیا ہے کیونکہ وہاں گرم پانی سے نہانے کا انتظام ہوتا ہے۔
بعد میں نہانے کی ہر جگہ کو حمام کہنے لگے، خواہ وہاں گرم پانی ہو یا ٹھنڈا۔

(2)
حمام میں نہلانے کے لیے خادم موجود ہوتے تھے وہاں جانے سے اس لیے منع کیا گیا کہ لوگ ان خادموں سے ستر پوشی کا اہتمام نہیں کرتے تھے۔
اگر ستر پوشی کا خیال رکھا جائے تو باقی جسم کو ملنے اور دھونے میں خادموں سے مدد لینا جائز ہے۔

(3)
عورت کا پورا جسم ستر ہے، اس لیے اس کو منع کر دیا گیا کہ حمام میں کسی سے مدد لے۔
اس کے لیے گھر ہی میں نہا نا بہتر ہے۔

(4)
اگر عورت گھر میں گرم پانی سے نہانے کا انتظام کر لے اور کسی سے مدد لیے بغیر نہا لے یا خاوند سے مدد لے لے تو کوئی حرج نہیں۔

(5)
جہاں مرد ننگے ہو کر ایک دوسرے کے سامنے نہاتے ہوں، جیسے غیر مسلم ممالک میں رواج ہے، وہاں مردوں کو بھی ان کے ساتھ نہانا منع ہے کیونکہ جس طرح اپنے ستر کو چھپانا فرض ہے، اسی طرح کسی کے ستر کو دیکھنا بھی منع ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3750 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4010 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´حمام میں جانے کا بیان۔`
ابوالملیح کہتے ہیں اہل شام کی کچھ عورتیں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئیں تو انہوں نے ان سے پوچھا: تم کہاں کی ہو؟ ان سب نے کہا: ہم اہل شام سے تعلق رکھتی ہیں، یہ سن کر وہ بولیں: شاید تم اس علاقہ کی ہو جہاں کی عورتیں بھی غسل خانوں میں داخل ہوتی ہیں، ان سب نے کہا: ہاں، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: سنو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جو بھی عورت اپنے کپڑے اپنے گھر کے علاوہ کہیں اور اتارتی ہے تو وہ اپنے پردے کو جو اس کے اور اللہ کے درمیان ہے پھاڑ دیتی ہے۔‏‏‏‏ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ جریر کی روایت ہے جو زیادہ کامل۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [سنن ابي داود/كتاب الحمام /حدیث: 4010]
فوائد ومسائل:
1: مسلمان عورت کا اپنے گھر سے باہر پردے کے بارے میں غفلت برتنا حرام ہے اس لئے ان کا عوامی غسل خانوں میں جانا حرام ہے۔
اسی پر موجودی دور کی ایک مصیبت اور فتنہ بیوٹی پارلروں کو قیاس کیا جا سکتا ہے۔

2: عورت اور اللہ کے مابین پردی پھٹ جانے کا مفہوم یہ ہے کہ وہ اپنی عزت وکرامت کو از خود دائو پر لگا دیتی ہے اور رسوا اور ذلیل ہونے سے کسی طرح نہیں بچ سکتی۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4010 سے ماخوذ ہے۔