حدیث نمبر: 375
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق ، عَنْ الْحَارِثِ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : " كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَهْلُهُ يَغْتَسِلُونَ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ ، وَلَا يَغْتَسِلُ أَحَدُهُمَا بِفَضْلِ صَاحِبِهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے ، اور کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کرتا تھا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: ظاہر یہ ہے کہ غسل ایک کا دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے جائز ہے، مگر نہی جو وارد ہوئی ہے تنزیہی ہے، یعنی نہ کرنا اولیٰ اور بہتر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 375
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: ضعيف , شیخ زبیر علی زئی: ضعيف, إسناده ضعيف, الحارث الأعور: ضعيف, انوار الصحيفه، صفحه نمبر 391
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 10051 ، ومصباح الزجاجة : 156 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 1/77 ) ( ضعیف ) » ( اس سند میں ”الحارث الاعور“ ضعیف راوی ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت۔`
علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن ایک ہی برتن سے غسل کرتے تھے، اور کوئی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل نہیں کرتا تھا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 375]
اردو حاشہ:
یہ روایت سنداً ضعیف ہے۔
صحیح بات یہ ہے کہ میاں بیوی اکھٹے بھی غسل کرسکتے ہیں اور ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے بھی غسل کرسکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 375 سے ماخوذ ہے۔