سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : الْمُسْتَشَارُ مُؤْتَمَنٌ باب: مشیر کار کے امانت دار ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3747
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ هَاشِمٍ , عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى , عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ , عَنْ جَابِرٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا اسْتَشَارَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ , فَلْيُشِرْ عَلَيْهِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے مشورہ طلب کرے ، تو اسے مشورہ دینا چاہیئے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مشیر کار کے امانت دار ہونے کا بیان۔`
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے مشورہ طلب کرے، تو اسے مشورہ دینا چاہیئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3747]
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جب تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی سے مشورہ طلب کرے، تو اسے مشورہ دینا چاہیئے۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3747]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
مسلمان کو صحیح مشورہ دینا ضروری ہے کیونکہ مسلمان پر مسلمان کی خیر خواہی فرض ہے جیسا کہ دوسری صحیح احادیث میں مذکور ہے۔
فوائد و مسائل:
مسلمان کو صحیح مشورہ دینا ضروری ہے کیونکہ مسلمان پر مسلمان کی خیر خواہی فرض ہے جیسا کہ دوسری صحیح احادیث میں مذکور ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3747 سے ماخوذ ہے۔