حدیث نمبر: 3743
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ , عَنْ شُعْبَةَ , عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ , عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ , عَنْ مُعَاوِيَةَ , قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , يَقُولُ : " إِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ , فَإِنَّهُ الذَّبْحُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا : ” تم آپس میں ایک دوسرے کی منہ پر مدح و تعریف کرنے سے بچو ، کیونکہ اس طرح تعریف کرنا گویا ذبح کرنا ہے “ ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس لئے کہ جب کسی کی منہ پر تعریف اور خوشامد کی جائے گی تو احتمال ہے کہ آدمی میں غرور تکبر پیدا ہو جائے، اور اپنے عیب کو ہنر سمجھے اور دوسرے مسلم بھائی کو حقیر جانے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3743
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: حسن , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 11441 ، ومصباح الزجاجة : 1308 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/92 ، 93 ، 98 ، 99 ) ( حسن ) » ( سند میں معبد الجہنی ضعیف ہے ، صحیحین میں ابوبکرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث سے تقویت پاکر یہ حسن ہے )

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´مدح کا بیان۔`
معاویہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: تم آپس میں ایک دوسرے کی منہ پر مدح و تعریف کرنے سے بچو، کیونکہ اس طرح تعریف کرنا گویا ذبح کرنا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3743]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
ذبح سے مراد یہ ہے کہ دنیا اور آخرت میں تباہی کا باعث ہے۔
واللہ أعلم۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3743 سے ماخوذ ہے۔