حدیث نمبر: 374
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا الْمُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ الْمُخْتَارِ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَرْجِسَ ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَغْتَسِلَ الرَّجُلُ بِفَضْلِ وَضُوءِ الْمَرْأَةِ ، وَالْمَرْأَةُ بِفَضْلِ الرَّجُلِ ، وَلَكِنْ يَشْرَعَانِ جَمِيعًا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے ، البتہ دونوں ایک ساتھ شروع کریں ۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں : صحیح پہلی حدیث یعنی حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی ہے ، اور دوسری حدیث یعنی عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی وہم ہے ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: یعنی اوپر کی حدیث (۳۷۳) صحیح ہے، امام ترمذی کہتے ہیں کہ امام بخاری نے فرمایا: عبداللہ سرجس کی اس باب میں حدیث موقوف صحیح ہے، جس نے اسے مرفوع بیان کیا غلطی کی (سنن ترمذی: ۱/ ۱۹۳)۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الطهارة وسننها / حدیث: 374
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده صحيح
تخریج حدیث «تفرد بہ ابن ماجہ ، ( تحفة الأشراف : 5325 ، ومصباح الزجاجة : 155 ) ( صحیح ) »

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کے استعمال کی ممانعت۔`
عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا کہ مرد عورت کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے اور عورت مرد کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرے، البتہ دونوں ایک ساتھ شروع کریں۔ ابوعبداللہ ابن ماجہ کہتے ہیں: صحیح پہلی حدیث یعنی حکم بن عمرو رضی اللہ عنہ کی ہے، اور دوسری حدیث یعنی عبداللہ بن سرجس رضی اللہ عنہ کی وہم ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 374]
اردو حاشہ: (1)
امام ابن ماجہ ؒ نے فرمایا: صحیح اول ہے اور ثانی وہم ہے۔
اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پہلی روایت صحیح ہے اور دوسری میں راوی سے غلطی ہوئی ہے۔
اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہےجو مسئلہ پہلے باب میں ذکر ہوا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے بچے ہوئے پانی سے غسل کرتے ہیں، وہ صحیح ہے۔
اور دوسرے باب والا مسئلہ یعنی اس کا منع ہونا راجح نہیں۔

(2)
بعض علماء نے اس نہی کی بابت لکھا ہے کہ یہ نہی یا تو رخصت سے پہلے کی ہے یا احتیاط پر محمول ہے۔
اور صحیح تر وہی ہے جو پچھلے باب میں مذکور ہوا کہ عورت اور مرد ایک دوسرے کے استعمال شدہ اور بچے ہوئے پانی سے وضو کرسکتے ہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 374 سے ماخوذ ہے۔