سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : تَغْيِيرِ الأَسْمَاءِ باب: نا مناسب ناموں کی تبدیلی کا بیان۔
حدیث نمبر: 3733
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ , عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ , عَنْ نَافِعٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ , أَنَّ ابْنَةً لِعُمَرَ كَانَ يُقَالُ لَهَا : عَاصِيَةُ ، " فَسَمَّاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَمِيلَةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام ” عاصیہ “ تھا ( یعنی گنہگار ، نافرمان ) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نا مناسب ناموں کی تبدیلی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام ” عاصیہ “ تھا (یعنی گنہگار، نافرمان) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3733]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ کی ایک بیٹی کا نام ” عاصیہ “ تھا (یعنی گنہگار، نافرمان) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام بدل کر جمیلہ رکھ دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3733]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(عاصية)
کا مطلب ’’نافرمان‘‘ ہے۔
مسلمان فرماں بردار ہوتا ہے، اس لیے یہ نام ناپسندیدہ ہے۔
فرعون کی مومن بیوی کا نام حضرت ’’آسیہ‘‘ تھا۔
یہ نام رکھنا جائز ہے۔
فوائد و مسائل:
(عاصية)
کا مطلب ’’نافرمان‘‘ ہے۔
مسلمان فرماں بردار ہوتا ہے، اس لیے یہ نام ناپسندیدہ ہے۔
فرعون کی مومن بیوی کا نام حضرت ’’آسیہ‘‘ تھا۔
یہ نام رکھنا جائز ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3733 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2139 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ (نافرمان) نام بدل کر فرمایا: ’’تم جمیلہ ہو۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:5604]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین قسم کے ناموں سے روکا ہے (1)
جن کا معنی ناپسندیدہ ہے، جیسے عاصیہ، یعنی نافرمان، حالانکہ ایک مسلمان کے لیے نافرمانی زیبا نہیں ہے، چہ جائیکہ کہ اس کا نام نافرمان رکھ دیا جائے۔
(2)
جن ناموں سے بدشگونی کا اندیشہ ہے، جبکہ بدشگونی جائز نہیں ہے، جیسے افلح، نجیح اور یسار وغیرہ۔
(3)
جن میں اپنا تزکیہ اور صفائی پیش کی گئی ہے، جیسے برہ، وفادار، اطاعت گزار، اگرچہ یہ دوسری قسم میں بھی داخل ہے اور اس سے بدشگونی کا اندیشہ ہے یعنی نفی کی صورت میں۔
جن کا معنی ناپسندیدہ ہے، جیسے عاصیہ، یعنی نافرمان، حالانکہ ایک مسلمان کے لیے نافرمانی زیبا نہیں ہے، چہ جائیکہ کہ اس کا نام نافرمان رکھ دیا جائے۔
(2)
جن ناموں سے بدشگونی کا اندیشہ ہے، جبکہ بدشگونی جائز نہیں ہے، جیسے افلح، نجیح اور یسار وغیرہ۔
(3)
جن میں اپنا تزکیہ اور صفائی پیش کی گئی ہے، جیسے برہ، وفادار، اطاعت گزار، اگرچہ یہ دوسری قسم میں بھی داخل ہے اور اس سے بدشگونی کا اندیشہ ہے یعنی نفی کی صورت میں۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2139 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ترمذي / حدیث: 2838 کی شرح از ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی ✍️
´خراب نام کی تبدیلی کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا (آج سے) تو «جمیلہ» یعنی: ” تیرا نام جمیلہ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2838]
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «عاصیہ» کا نام بدل دیا اور کہا (آج سے) تو «جمیلہ» یعنی: ” تیرا نام جمیلہ ہے “ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2838]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ ایسے نام جو برے ہوں انہیں بدل کر ان کی جگہ اچھا نام رکھ دیا جائے۔
وضاحت:
1؎:
معلوم ہوا کہ ایسے نام جو برے ہوں انہیں بدل کر ان کی جگہ اچھا نام رکھ دیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2838 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 4952 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´برے نام کو بدل دینے کا بیان۔`
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4952]
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاصیہ کا نام بدل دیا ۱؎، اور فرمایا: تو جمیلہ ہے ۲؎۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4952]
فوائد ومسائل:
عرب لوگ عاس اور عاصیہ نام رکھتے تھے۔
ان سے مراد ہوتی تھے ظلم و ذیادتی اور برائی سے انکار کرنے والا کرنے والی۔
مگر اس میں عصیان نافرمانی کا مفہوم بھی ہے۔
اس لیے اس نام کو بدل دیا گیا۔
عرب لوگ عاس اور عاصیہ نام رکھتے تھے۔
ان سے مراد ہوتی تھے ظلم و ذیادتی اور برائی سے انکار کرنے والا کرنے والی۔
مگر اس میں عصیان نافرمانی کا مفہوم بھی ہے۔
اس لیے اس نام کو بدل دیا گیا۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4952 سے ماخوذ ہے۔