سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : الْجُلُوسِ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ باب: دھوپ اور سایہ کے بیچ میں بیٹھنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3722
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ , عَنْ أَبِي الْمُنِيبِ , عَنْ ابْنِ بُرَيْدَةَ , عَنْ أَبِيهِ , أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُقْعَدَ بَيْنَ الظِّلِّ وَالشَّمْسِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ اور سایہ کے درمیان میں بیٹھنے سے منع کیا ہے ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: یعنی اس طرح بیٹھنے سے کہ بدن کا ایک حصہ دھوپ میں رہے، اور ایک حصے پر سایہ، اس لئے کہ یہ امر طبی طور پر مضر ہے اور بیماری پیدا کرتا ہے، اور یہ ممانعت بھی تنزیہی ہے، نہ کہ تحریمی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´دھوپ اور سایہ کے بیچ میں بیٹھنے کا بیان۔`
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ اور سایہ کے درمیان میں بیٹھنے سے منع کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3722]
بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ اور سایہ کے درمیان میں بیٹھنے سے منع کیا ہے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3722]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی شخص دھوپ میں بیٹھا یا لیٹا ہوا ہو، پھر اس پر سے دھوپ ہٹ جائے اور اس کا کچھ جسم سائے میں اور کچھ دھوپ میں ہو جائے تو اسے چاہیے کہ جگہ تبدیل کر لے تاکہ سارا جسم دھوپ میں یا سارا جسم سائے میں ہوجائے۔
مزید دیکھیے: (سنن أبي داؤد، الأدب، باب في الجلوس بين الشمس والظل، حديث: 4821)
فوائد و مسائل:
(1)
اگر کوئی شخص دھوپ میں بیٹھا یا لیٹا ہوا ہو، پھر اس پر سے دھوپ ہٹ جائے اور اس کا کچھ جسم سائے میں اور کچھ دھوپ میں ہو جائے تو اسے چاہیے کہ جگہ تبدیل کر لے تاکہ سارا جسم دھوپ میں یا سارا جسم سائے میں ہوجائے۔
مزید دیکھیے: (سنن أبي داؤد، الأدب، باب في الجلوس بين الشمس والظل، حديث: 4821)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3722 سے ماخوذ ہے۔
✍️ حافظ زبیر علی زئی
دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا
«أبو المنيب عن ابن بريدة عن أبيه أن النبى صلى الله عليه وسلم نهي أن يقعد بين الظل والشمس»
بریدہ (بن الحصیب رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
[ابن ماجه: 3722، ابن ابي شيبه فى المصنف 8/ 491 ح 25954، المستدرك 4/ 272 ح 7714]
اس کی سند حسن ہے۔ [تسهيل الحاجة، قلمي ص 261]
اسے بوصیری نے حسن قرار دیا ہے۔
عکرمہ تابعی فرماتے ہیں کہ جو شخص دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھتا ہے تو ایسا بیٹھنا شیطان کا بیٹھنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 8/ 4891 ح 25953 وسنده صحيح]
عبید بن عمیر (تابعی) نے فرمایا: دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا شیطان کا بیٹھنا ہے۔ [ابن ابي شيبه: 25952 وسنده صحيح]
لہٰذا ایسے بیٹھنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
توضیح الاحکام (جلد 2 صفحہ 493 تا 495) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
«أبو المنيب عن ابن بريدة عن أبيه أن النبى صلى الله عليه وسلم نهي أن يقعد بين الظل والشمس»
بریدہ (بن الحصیب رضی اللہ عنہ) سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔
[ابن ماجه: 3722، ابن ابي شيبه فى المصنف 8/ 491 ح 25954، المستدرك 4/ 272 ح 7714]
اس کی سند حسن ہے۔ [تسهيل الحاجة، قلمي ص 261]
اسے بوصیری نے حسن قرار دیا ہے۔
عکرمہ تابعی فرماتے ہیں کہ جو شخص دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھتا ہے تو ایسا بیٹھنا شیطان کا بیٹھنا ہے۔ [مصنف ابن ابي شيبه 8/ 4891 ح 25953 وسنده صحيح]
عبید بن عمیر (تابعی) نے فرمایا: دھوپ اور چھاؤں میں بیٹھنا شیطان کا بیٹھنا ہے۔ [ابن ابي شيبه: 25952 وسنده صحيح]
لہٰذا ایسے بیٹھنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔
. . . اصل مضمون کے لئے دیکھئے . . .
توضیح الاحکام (جلد 2 صفحہ 493 تا 495) للشیخ حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
درج بالا اقتباس فتاویٰ علمیہ (توضیح الاحکام)، حدیث/صفحہ نمبر: 493 سے ماخوذ ہے۔