حدیث نمبر: 3701
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ , عَنْ ابْنِ أَبِي حُسَيْنٍ , قَالَ : سَمِعَهُ مِنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ , يَقُولُ : أَخْبَرَتْهُ أَسْمَاءُ بِنْتُ يَزِيدَ , قَالَتْ : " مَرَّ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي نِسْوَةٍ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم عورتوں کے پاس گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎ ۔

وضاحت:
۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اجنبی عورت کو سلام کرنا جائز ہے، شرط یہ ہے کہ وہ کئی عورتیں ہوں، ہاں اگر عورت اکیلی ہو اور اس کے ساتھ کوئی محرم نہ ہو تو فتنے کے خدشے کی وجہ سے سلام نہ کرنا بہتر ہے۔
حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3701
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: إسناده حسن
تخریج حدیث «سنن ابی داود/الأدب 148 ( 5204 ) ، سنن الترمذی/الاستئذان 9 ( 2697 ) ، ( تحفة الأشراف : 15766 ) ، وقد أخرجہ : ( حم 6/452 ، 457 ، سنن الدارمی/الإستئذان 9 ( 2679 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابي داود: 5204 | مسند الحميدي: 370

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بچوں اور عورتوں کو سلام کرنے کا بیان۔`
اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہم عورتوں کے پاس گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3701]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
 
(1)
اگر فتنے کا خوف نہ ہو تو مرد نا محرم عورت کو اور عورت نا محرم مرد کو سلام کہہ سکتی ہے۔

(2)
فتنے کا خوف نہ ہونے کی صورت یہ ہےمثلاً: عورت بوڑھی ہو یا کئی عورتیں موجود ہوں اور کوئی غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو مرد انہیں سلام کہہ سکتا ہے۔

(3)
جوان عورت کا تنہا مرد کو یا مرد کا جوان عورت کو سلام کرنا خرابیاں پیدا ہونے کا باعث ہے، اس لیے اس سے اجتناب ضروری ہے البتہ محرم مرد اور عورت ایک دوسرے کو سلام کر سکتے ہیں بلکہ آپس میں سلام کرنا چاہیے کیونکہ اس صورت میں نا مناسب خیالات پیدا ہونے کا خطرہ نہیں ہوتا۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3701 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5204 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´عورتوں کو سلام کرنے کا بیان۔`
شہر بن حوشب کہتے ہیں کہ انہیں اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا نے خبر دی ہے کہ ہم عورتوں کے پاس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزرے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۱؎۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5204]
فوائد ومسائل:
اجنبی عورتوں کو جہاں فتنے اور شبہےکا اندیشہ ہو، سلام کہنا سنت ہے۔
بالخصوص قوم کے بڑوں اوربزرگوں کے لئے یہ ایک مستحب عمل ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5204 سے ماخوذ ہے۔