سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : السَّلاَمِ عَلَى الصِّبْيَانِ وَالنِّسَاءِ باب: بچوں اور عورتوں کو سلام کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3700
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ , حَدَّثَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ , عَنْ حُمَيْدٍ , عَنْ أَنَسٍ , قَالَ : " أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ صِبْيَانٌ , فَسَلَّمَ عَلَيْنَا " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، ( اس وقت ) ہم بچے تھے تو آپ نے ہمیں سلام کیا ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´بچوں اور عورتوں کو سلام کرنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، (اس وقت) ہم بچے تھے تو آپ نے ہمیں سلام کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3700]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، (اس وقت) ہم بچے تھے تو آپ نے ہمیں سلام کیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3700]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس حدیث کے بعض حصے کے شواہد بخاری و مسلم میں موجود ہیں دیگر محققین نے مذکورہ روایت کو صحیح قرار دیا ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللہ أعلم- مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 19/ 244، 245 وصحيح سنن ابن ماجة للألبانى رقم: 3000 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 3700)
(2)
اصل قاعدہ یہ ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوٹا بڑے کو، گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کہے اور تھوڑے زیادہ کو سلام کہیں۔ (صحيح البخاري، الأسئذان، باب: يسلم الصغير على الكبير حديث: 6234)
(3)
بچوں کی تربیت کے لیے بڑا چھوٹے کو سلام کہہ سکتا ہے۔
(4)
اس سے بچوں پر شفقت کا اظہار ہوتا ہے اور دل سے تکبر ختم ہوتا ہے۔
فوائد و مسائل:
(1)
مذکورہ روایت کو ہمارے فاضل محقق نے سنداً ضعیف قرار دیا ہے اور مزید لکھا ہے کہ اس حدیث کے بعض حصے کے شواہد بخاری و مسلم میں موجود ہیں دیگر محققین نے مذکورہ روایت کو صحیح قرار دیا ہے جس سے تصحیح حدیث والی رائے ہی اقرب الی الصواب معلوم ہوتی ہے۔
واللہ أعلم- مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 19/ 244، 245 وصحيح سنن ابن ماجة للألبانى رقم: 3000 وسنن ابن ماجة بتحقيق الدكتور بشار عواد رقم: 3700)
(2)
اصل قاعدہ یہ ہے کہ چھوٹا بڑے کو سلام کہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: چھوٹا بڑے کو، گزرنے والا بیٹھے ہوئے کو سلام کہے اور تھوڑے زیادہ کو سلام کہیں۔ (صحيح البخاري، الأسئذان، باب: يسلم الصغير على الكبير حديث: 6234)
(3)
بچوں کی تربیت کے لیے بڑا چھوٹے کو سلام کہہ سکتا ہے۔
(4)
اس سے بچوں پر شفقت کا اظہار ہوتا ہے اور دل سے تکبر ختم ہوتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3700 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6289 کی شرح از مولانا داود راز ✍️
6289. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے مجھ سے ایک راز کی بات کی تھی۔ میں نے آپ کے وہ راز کسی کو نہیں بتایا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی مجھ سے اس کے متعلق پوچھا تو میں نے انہیں بھی نہیں بتایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6289]
حدیث حاشیہ: دارمی کی روایت میں یوں ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ کو ایک کام کے لئے بھیجا تھا جس کی وجہ سے میں اپنی والدہ کے پاس دیر میں پہنچا۔
والدہ نے تاخیر کی وجہ پوچھی میں نے کہا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی ایک بات ہے پھر حضرت والدہ نے بھی یہی فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی بات کسی کے سامنے ظاہر نہ کیجيو مگر اس میں وہی راز مراد ہے جس کے ظاہر ہونے سے ایک مسلمان بھائی کو نقصان کا خوف ہو۔
والدہ نے تاخیر کی وجہ پوچھی میں نے کہا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی ایک بات ہے پھر حضرت والدہ نے بھی یہی فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی بات کسی کے سامنے ظاہر نہ کیجيو مگر اس میں وہی راز مراد ہے جس کے ظاہر ہونے سے ایک مسلمان بھائی کو نقصان کا خوف ہو۔
درج بالا اقتباس صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 6289 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح البخاري / حدیث: 6289 کی شرح از الشیخ عبدالستار الحماد ✍️
6289. حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہا کہ نبی ﷺ نے مجھ سے ایک راز کی بات کی تھی۔ میں نے آپ کے وہ راز کسی کو نہیں بتایا۔ سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے بھی مجھ سے اس کے متعلق پوچھا تو میں نے انہیں بھی نہیں بتایا۔[صحيح بخاري، حديث نمبر:6289]
حدیث حاشیہ:
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے بھیجا تھا جس کی وجہ سے میں اپنی والدہ کے پاس دیر سے پہنچا۔
والدہ نے تاخیر کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی ایک بات تھی۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ والدہ نے بھی تاکید کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی کے سامنے ظاہر مت کرنا۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6378(2482)
، وفتح الباري: 98/11) (2)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ راز ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص تھا کیونکہ اگر دینی یا علمی بات ہوتی تو اس کا چھپانا تو جائز ہی نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس سے وہ راز مراد ہے جس کے ظاہر ہونے سے مسلمان بھائی کو نقصان کا اندیشہ ہو۔
(فتح الباري: 99/11)
(1)
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک کام کے لیے بھیجا تھا جس کی وجہ سے میں اپنی والدہ کے پاس دیر سے پہنچا۔
والدہ نے تاخیر کی وجہ پوچھی تو میں نے کہا: وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی ایک بات تھی۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ والدہ نے بھی تاکید کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا راز کسی کے سامنے ظاہر مت کرنا۔
(صحیح مسلم، فضائل الصحابة، حدیث: 6378(2482)
، وفتح الباري: 98/11) (2)
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ راز ازواج مطہرات رضی اللہ عنہا کے ساتھ خاص تھا کیونکہ اگر دینی یا علمی بات ہوتی تو اس کا چھپانا تو جائز ہی نہیں۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ اس سے وہ راز مراد ہے جس کے ظاہر ہونے سے مسلمان بھائی کو نقصان کا اندیشہ ہو۔
(فتح الباري: 99/11)
درج بالا اقتباس هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 6289 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 2482 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لا ئے اس وقت میں لڑکوں کے ساتھ کھیل رہا تھا کہا: آپ نے ہم سب کو سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیج دیا تو میں اپنی والد ہ کے پاس تا خیر سے پہنچا،جب میں آیا تو والدہ نے پو چھا: تمھیں دیر کیوں ہوئی۔؟میں نے کہا: مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کا م سے بھیجا تھا۔ انھوں نے پو چھا: آپ کا وہ کام کیا تھا؟ میں نے کہا:... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:6378]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بعض راز اس قدر پوشیدہ رکھنے والے ہوتے ہیں کہ ان کے مرنے کے بعد بھی ظاہر نہیں کیا جا سکتا، اس لیے حضرت انس رضی اللہ عنہ نے آپ کی وفات کے بعد بھی اپنے شاگرد رشید کو آپ کے راز سے مطلع نہیں کیا۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 2482 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابي داود / حدیث: 5203 کی شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی ✍️
´بچوں کو سلام کرنے کا بیان۔`
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا: ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5203]
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور میں ابھی ایک بچہ تھا، آپ نے ہمیں سلام کیا، پھر میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی کسی ضرورت سے مجھے بھیجا اور میرے لوٹ کر آنے تک ایک دیوار کے سائے میں بیٹھے رہے، یا کہا: ایک دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھے رہے۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5203]
فوائد ومسائل:
1: بچوں کو سلام کہنا چاہیے اس میں بڑے آدم کے لئے کوئی ہتک والی بات نہیں، بلکہ بچوں کی تعلیم وتربیت اور ان کے ساتھ انس وپیار کا اظہار ہے۔
2: ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سندا ضعیف قراردیا ہے، جبکہ شیخ البانی ؒ نے اس روایت کی بابت کہا ہے کہ اس روایت میں مذکور (و قعد في ظل جدار۔
۔
۔
۔
۔
) کے الفاظ صحیح نہیں ہیں، باقی روایت صحیح ہے۔
1: بچوں کو سلام کہنا چاہیے اس میں بڑے آدم کے لئے کوئی ہتک والی بات نہیں، بلکہ بچوں کی تعلیم وتربیت اور ان کے ساتھ انس وپیار کا اظہار ہے۔
2: ہمارے فاضل محقق نے اس روایت کو سندا ضعیف قراردیا ہے، جبکہ شیخ البانی ؒ نے اس روایت کی بابت کہا ہے کہ اس روایت میں مذکور (و قعد في ظل جدار۔
۔
۔
۔
۔
) کے الفاظ صحیح نہیں ہیں، باقی روایت صحیح ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5203 سے ماخوذ ہے۔