حدیث نمبر: 3695
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ , حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , أَنَّ رَجُلًا دَخَلَ الْمَسْجِدَ , وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ فِي نَاحِيَةِ الْمَسْجِدِ , فَصَلّ ثُمَّ جَاءَ فَسَلَّمَ , فَقَالَ : " وَعَلَيْكَ السَّلَامُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے نماز پڑھی ، پھر آپ کے پاس آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” «وعلیک السلام» ( اور تم پر بھی سلامتی ہو ) “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3695
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: متفق عليه
تخریج حدیث «أنظر حدیث رقم : ( 1060 ) ، ( تحفة الأشراف : 12983 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : سنن ابن ماجه: 351

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´سلام کے جواب کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص مسجد نبوی میں داخل ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسجد کے ایک گوشے میں بیٹھے ہوئے تھے تو اس نے نماز پڑھی، پھر آپ کے پاس آ کر سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «وعلیک السلام» (اور تم پر بھی سلامتی ہو)۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3695]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
(1)
اگر مسجد میں چند افراد مل کر بیٹھے ہوئے ہوں تو ان کے پاس آنے والا انہیں سلام کرے۔

(2)
  سلام کا جواب ضرور دینا چاہیے۔

(3)
«عليك» ایک آدمی کے لیے اور «عليكم» زیادہ زیادہ افراد کے لیے ہوتا ہے لیکن ایک آدمی کو بھی «عليكم» کہنا درست ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3695 سے ماخوذ ہے۔

موضوع سے متعلق حدیث: سنن ابن ماجه / حدیث: 351 کی شرح از مولانا عطا اللہ ساجد ✍️
´پیشاب کے دوران سلام کا جواب۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب کر رہے تھے کہ ایک آدمی آپ کے پاس سے گزرا، اس شخص نے آپ کو سلام کیا، آپ نے سلام کا جواب نہ دیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم پیشاب سے فارغ ہو گئے تو اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پہ ماریں، اور تیمم کیا، پھر اس کے سلام کا جواب دیا۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الطهارة وسننها/حدیث: 351]
اردو حاشہ: (1)
اس حدیث کی یہ سند ضعیف ہے، البتہ اس قسم کا واقعہ دوسری صحیح سند سے بھی مروی ہے۔
صحیح بخاری میں حضرت ابوجہیم بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا: نبی ﷺ بئر جمل کی طرف سے تشریف لارہے تھے کہ ایک آدمی آپ کو ملا۔
اس نے سلام کہا تو نبی ﷺ نے جواب دینے سے پہلے دیوار پر ہاتھ مار کر چہرے اور ہاتھوں پر پھیر ے (تیمم کیا)
پھر سلام کا جواب دیا۔ (صحیح البخاری، التیمم، باب التیمم فی الحضر إذا لم یجد الماء وخاف فوت الصلاۃ، حدیث: 337)

(2)
کسی عذر اور مشغولیت کی وجہ سے سلام کا جواب مؤخر کرنا جائز ہے۔

(3)
امام بخاری ؒ نے مذکورہ بالا واقعہ سے استدلال کیا ہے کہ تیمم کے لیے سفر شرط نہیں۔
سورہ مائدہ کی آیت: 6 سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ تیمم سفر ہی کی صورت میں ہوسکتا ہے۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ آیت میں ان حالات کا ذکر ہے جن میں عام طور پر تیمم کی ضرورت پیش آسکتی ہے یہ مطلب نہیں کہ ان حالات کے علاوہ تیمم جائز نہیں۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 351 سے ماخوذ ہے۔