سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : الإِحْسَانِ إِلَى الْمَمَالِيكِ باب: غلاموں کے ساتھ احسان (اچھے برتاؤ) کرنے کا بیان۔
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ , عَنْ فَرْقَدٍ السَّبَخِيِّ , عَنْ مُرَّةَ الطَّيِّبِ , عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَيِّئُ الْمَلَكَةِ " , قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَلَيْسَ أَخْبَرْتَنَا أَنَّ هَذِهِ الْأُمَّةَ أَكْثَرُ الْأُمَمِ مَمْلُوكِينَ وَيَتَامَى , قَالَ : " نَعَمْ , فَأَكْرِمُوهُمْ كَكَرَامَةِ أَوْلَادِكُمْ , وَأَطْعِمُوهُمْ مِمَّا تَأْكُلُونَ " , قَالُوا : فَمَا يَنْفَعُنَا فِي الدُّنْيَا ؟ قَالَ : " فَرَسٌ تَرْتَبِطُهُ تُقَاتِلُ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَمْلُوكُكَ يَكْفِيكَ , فَإِذَا صَلَّى فَهُوَ أَخُوكَ " .
´ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بدخلق شخص جو اپنے غلام اور لونڈی کے ساتھ بدخلقی سے پیش آتا ہو ، جنت میں داخل نہ ہو گا “ ، لوگوں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! کیا آپ نے ہمیں نہیں بتایا کہ اس امت کے اکثر افراد غلام اور یتیم ہوں گے ؟ ۱؎ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” کیوں نہیں ؟ لیکن تم ان کی ایسی ہی عزت و تکریم کرو جیسی اپنی اولاد کی کرتے ہو ، اور ان کو وہی کھلاؤ جو تم خود کھاتے ہو “ ، پھر لوگوں نے عرض کیا : ہمارے لیے دنیا میں کون سی چیز نفع بخش ہو گی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” گھوڑا جسے تم جہاد کے لیے باندھ کر رکھتے ہو ، پھر اس پر اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہو ( اس کی جگہ ) تمہارا غلام تمہارے لیے کافی ہے ، اور جب نماز پڑھے تو وہ تمہارا بھائی ہے “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
ابوبکر رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جو خادموں کے ساتھ برا سلوک کرتا ہے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1946]
نوٹ:
(سندمیں فرقد سبخی ضعیف راوی ہیں)
ابوبکر صدیق رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” دھوکہ باز، احسان جتانے والا اور بخیل جنت میں نہیں داخل ہوں گے۔“ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1963]
نوٹ:
(سند میں صدقہ بن موسیٰ، اور فرقد سبخی دونوں ضعیف ہیں)
«وعن ابي بكر الصديق رضى الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم: لا يدخل الجنة خب ولا بخيل ولا سيء الملكة اخرجه الترمذي وفرقه حديثين وفي إسناده ضعف»
” ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جنت میں دھوکے باز داخل نہیں ہو گا نہ بخیل اور نہ ہی وہ جو مالک ہونے میں برا ہے۔ “ اسے ترمذی نے روایت کیا ہے اور اسے دو علیحدہ علیحدہ حدیثوں میں بیان کیا ہے اور اس کی اسناد میں ضعف ہے۔ [بلوغ المرام/كتاب الجامع: 1303]
«ضعيف»
[ترمذي 1963] میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی علیہ وسلم نے فرمایا: «لا يدخل الجنة خب ولا منان ولا بخيل» ”جنت میں دھوکے باز داخل نہیں ہو گا نہ احسان جتلانے والا اور نہ ہی بخیل۔ “ دیکھئے: ضعیف ترمذی للالبانی [330]
اور ترمذی [1946] میں ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «لا يدخل الجنة سيء الملكة» ”مالک ہونے میں برا شخص جنت میں نہیں جائے گا۔“ دیکھئے: ضعیف ترمذی [336] اور دیکھئے تحفتہ الاشراف [5/305'304]
یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کی دونوں روایتوں میں ایک راوی فرقد السبخی ہے جس کے متعلق حافظ نے فرمایا: «صدوق عابد لكنه لين الحديث كثير الخطا» [تقريب]
البتہ ان اعمال کی برائی میں دوسری کئی احادیث موجود ہیں۔
مفردات:
«خَبٌّ» خاء کے فتحہ کے ساتھ دھوکے باز «سَيِّيُ الْمَلَكَةِ اَلْمَلَكَةُ مَلَكَ يَمْلَكُ» کا مصدر ہے۔ وہ شخص جو مالک ہونے میں برا ہے یعنی جو غلام یا جانور اس کی ملکیت میں ہیں ان سے برا سلوک کرتا ہے ان کی استطاعت سے زیادہ کام لیتا ہے انہیں بے جا مارتا پیٹتا ہے اور ان کے آرام خوراک اور علاج کا خیال نہیں کرتا۔
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ دھوکہ باز، بخیل اور بدخلق آدمی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ “ ترمذی نے اس کو روایت کیا ہے اور اس نے اسے دو احادیث کی صورت میں الگ الگ بیان کیا ہے اور اس کی سند میں ضعف ہے۔ «بلوغ المرام/حدیث: 1303»
«أخرجه الترمذي، البر والصلة، باب ما جاء في البخل، حديث:1963 وقال: حسن غريب.* صدقة وفرقد ضعيفان.»
تشریح: مذکورہ روایت سنداً ضعیف ہے‘ تاہم دھوکا دینے‘ بخل کرنے اور برے اخلاق کی مذمت اور قباحت کتاب و سنت کے دیگر دلائل سے واضح ہے۔
بنابریں ان اعمال قبیحہ سے اجتناب ضروری ہے۔