سنن ابن ماجه
كتاب الطهارة وسننها— کتاب: طہارت اور اس کے احکام و مسائل
بَابُ : الْوُضُوءِ بِسُؤْرِ الْهِرَّةِ وَالرُّخْصَةِ فِي ذَلِكَ باب: بلی کے جھوٹے سے وضو کے جائز ہونے کا بیان۔
حدیث نمبر: 369
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْهِرَّةُ لَا تَقْطَعُ الصَّلَاةَ لِأَنَّهَا مِنْ مَتَاعِ الْبَيْتِ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” بلی نماز کو نہیں توڑتی ، اس لیے کہ وہ گھر کے سامانوں میں سے ایک سامان ہے “ ۱؎ ۔
وضاحت:
۱؎: عبیداللہ بن عبدالمجید کی کنیت ” ابوبکر “ نہیں بلکہ ” ابوعلی “ ہے، ابوبکر ان کے بھائی ہیں (ملاحظہ ہو: تہذیب الکمال)