حدیث نمبر: 3687
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ , عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ هِلَالٍ الْعَبْسِيِّ , عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُحْرَمْ الرِّفْقَ يُحْرَمْ الْخَيْرَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی

´جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جو شخص نرمی ( کی خصلت ) سے محروم کر دیا جاتا ہے ، وہ ہر بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے “ ۔

حوالہ حدیث سنن ابن ماجه / كتاب الأدب / حدیث: 3687
درجۂ حدیث شیخ الألبانی: صحيح , شیخ زبیر علی زئی: صحيح مسلم
تخریج حدیث «صحیح مسلم/البر والصلة 23 ( 1592 ) ، سنن ابی داود/الأدب 11 ( 4809 ) ، ( تحفة الأشراف : 3219 ) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( 4/362 ، 366 ) ( صحیح ) »
اس موضوع سے متعلق مزید احادیث و آثار کے حوالے ملاحظہ کریں : صحيح مسلم: 2592 | سنن ابي داود: 4809

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´نرمی اور ملائمیت کا بیان۔`
جریر بن عبداللہ بجلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص نرمی (کی خصلت) سے محروم کر دیا جاتا ہے، وہ ہر بھلائی سے محروم کر دیا جاتا ہے۔‏‏‏‏ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3687]
اردو حاشہ:
فوائد و مسائل:
سخت طبیعت والا شخص لوگوں کی محبت حاصل نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے وہ بہت سے دنیوی فوائد سے محروم ہو جاتا ہے۔
اور بد اخلاق شخص اللہ کو بھی پسند نہیں، اس لیے وہ آخرت کے فوائد سے بھی محروم رہ جاتا ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3687 سے ماخوذ ہے۔