سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : فَضْلِ صَدَقَةِ الْمَاءِ باب: پانی صدقہ کرنے کی فضیلت کا بیان۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ , وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ , قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ يَزِيدَ الرَّقَاشِيِّ , عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " يَصُفُّ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ صُفُوفًا , وَقَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : أَهْلُ الْجَنَّةِ , فَيَمُرُّ الرَّجُلُ مِنْ أَهْلِ النَّارِ عَلَى الرَّجُلِ , فَيَقُولُ : يَا فُلَانُ , أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ اسْتَسْقَيْتَ فَسَقَيْتُكَ شَرْبَةً , قَالَ : فَيَشْفَعُ لَهُ , وَيَمُرُّ الرَّجُلُ , فَيَقُولُ : أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ نَاوَلْتُكَ طَهُورًا , فَيَشْفَعُ لَهُ " , قَالَ ابْنُ نُمَيْرٍ : " وَيَقُولُ : يَا فُلَانُ , أَمَا تَذْكُرُ يَوْمَ بَعَثْتَنِي فِي حَاجَةِ كَذَا وَكَذَا , فَذَهَبْتُ لَكَ فَيَشْفَعُ لَهُ " .
´انس بن مالک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” قیامت کے دن لوگوں کی صف بندی ہو گی ( ابن نمیر کی روایت میں ہے کہ اہل جنت کی صف بندی ہو گی ) پھر ایک جہنمی ایک جنتی کے پاس گزرے گا اور اس سے کہے گا : اے فلاں ! تمہیں یاد نہیں کہ ایک دن تم نے پانی مانگا تھا اور میں نے تم کو ایک گھونٹ پانی پلایا تھا ؟ ( وہ کہے گا : ہاں ، یاد ہے ) وہ جنتی اس بات پر اس کی سفارش کرے گا ، پھر دوسرا جہنمی ادھر سے گزرے گا ، اور اہل جنت میں سے ایک شخص سے کہے گا : تمہیں یاد نہیں کہ میں نے ایک دن تمہیں طہارت و وضو کے لیے پانی دیا تھا ؟ تو وہ بھی اس کی سفارش کرے گا ۔ ابن نمیر نے اپنی روایت میں بیان کیا کہ وہ شخص کہے گا : اے فلاں ! تمہیں یاد نہیں کہ تم نے مجھے فلاں اور فلاں کام کے لیے بھیجا تھا ، اور میں نے اسے پورا کیا تھا ؟ تو وہ اس بات پر اس کی سفارش کرے گا ۔