سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ باب: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3683
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ , أَنْبَأَنَا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ , عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَى أَبِي عُيَيْنَةَ , عَنْ يَحْيَى بْنِ عُقَيْلٍ , عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ , عَنْ أَبِي ذَرٍّ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ أُمَّتِي بِأَعْمَالِهَا حَسَنِهَا وَسَيِّئِهَا , فَرَأَيْتُ فِي مَحَاسِنِ أَعْمَالِهَا الْأَذَى يُنَحَّى عَنِ الطَّرِيقِ , وَرَأَيْتُ فِي سَيِّئِ أَعْمَالِهَا النُّخَاعَةَ فِي الْمَسْجِدِ لَا تُدْفَنُ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے ، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے ، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے ، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا بیان۔`
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3683]
ابوذر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” میری امت کے اچھے اور برے اعمال میرے سامنے پیش کیے گئے، تو میں نے ان میں سب سے بہتر عمل راستے سے تکلیف دہ چیز کے ہٹانے، اور سب سے برا عمل مسجد میں تھوکنے، اور اس پر مٹی نہ ڈالنے کو پایا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3683]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
ہروه عمل نیکی ہے جس سے لوگوں کو فائدہ یا نقصان سے بچاؤ ہو (بشرطیکہ وہ شریعت کے کسی خاص حکم کے خلاف نہ ہو)
اور ہر وہ عمل برائی ہے جو اس کے برعکس ہو۔
(2)
کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر ترک نہیں کرنا چاہیے اور کسی برائی کو معمولی سمجھ کر اس کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
مسجد کی صفائی کا اہتمام زیادہ ہونا چاہیے۔
(4)
اس زمانے میں فرش کچا ہوتا تھا، اس لیے بلغم وغیرہ پر مٹی ڈال دینے سے وہ جذب ہو کر ختم ہو جاتا تھا۔
آج کل کے حالات کے مطابق پانی سے صفائی ضروری ہے۔
(5)
اگر تھوکنے کی ضرورت پیش آئے تو وضو کی جگہ جا کر تھو کا جائے یا رومال میں تھوک لیا جائے، کراہت ہو تو بعد میں رومال دھولیا جائے۔
فوائد ومسائل: (1)
ہروه عمل نیکی ہے جس سے لوگوں کو فائدہ یا نقصان سے بچاؤ ہو (بشرطیکہ وہ شریعت کے کسی خاص حکم کے خلاف نہ ہو)
اور ہر وہ عمل برائی ہے جو اس کے برعکس ہو۔
(2)
کسی نیکی کو معمولی سمجھ کر ترک نہیں کرنا چاہیے اور کسی برائی کو معمولی سمجھ کر اس کا ارتکاب نہیں کرنا چاہیے۔
(3)
مسجد کی صفائی کا اہتمام زیادہ ہونا چاہیے۔
(4)
اس زمانے میں فرش کچا ہوتا تھا، اس لیے بلغم وغیرہ پر مٹی ڈال دینے سے وہ جذب ہو کر ختم ہو جاتا تھا۔
آج کل کے حالات کے مطابق پانی سے صفائی ضروری ہے۔
(5)
اگر تھوکنے کی ضرورت پیش آئے تو وضو کی جگہ جا کر تھو کا جائے یا رومال میں تھوک لیا جائے، کراہت ہو تو بعد میں رومال دھولیا جائے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3683 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 553 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’مجھ پر میری امت کے اچھے اور برے اعمال پیش کیے گئے تو میں نے اس کے اچھے اعمال میں راستہ سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کو پایا اور میں نے اس کے برے اعمال میں مسجد میں کنگھار کو پایا جس کو دفن نہیں کیا گیا۔‘‘ [صحيح مسلم، حديث نمبر:1233]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: اس حدیث سے ثابت ہوا کہ آپﷺ کو اپنی زندگی میں امت کے اچھے اور برے عملوں کا مشادہ کروایا گیا تاکہ آپﷺ امت کو اچھے اور برے عملوں سے (عَلیٰ وَجْهِ الْبَصِیْرۃ)
آگاہ فرما دیں اور آپﷺ نے یہ فریضہ سرانجام دے دیا، لیکن یہ کہنا (یہ تصریح ہے)
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر امت کے تمام اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
حدیث کے مفہوم ومعنی میں اپنی طرف سے اضافہ ہے اور یہ حدیث کا منشا اور مقصد نہیں ہے۔
آگاہ فرما دیں اور آپﷺ نے یہ فریضہ سرانجام دے دیا، لیکن یہ کہنا (یہ تصریح ہے)
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر امت کے تمام اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔
حدیث کے مفہوم ومعنی میں اپنی طرف سے اضافہ ہے اور یہ حدیث کا منشا اور مقصد نہیں ہے۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 553 سے ماخوذ ہے۔