سنن ابن ماجه
كتاب الأدب— کتاب: اسلامی آداب و اخلاق
بَابُ : إِمَاطَةِ الأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ باب: راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا بیان۔
حدیث نمبر: 3682
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ , عَنْ الْأَعْمَشِ , عَنْ أَبِي صَالِحٍ , عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ , عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , قَالَ : " كَانَ عَلَى الطَّرِيقِ غُصْنُ شَجَرَةٍ يُؤْذِي النَّاسَ , فَأَمَاطَهَا رَجُلٌ , فَأُدْخِلَ الْجَنَّةَ " .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ` نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” راستے میں ایک درخت کی شاخ ( ٹہنی ) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی ، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا ( تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو ) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا “ ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کا بیان۔`
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” راستے میں ایک درخت کی شاخ (ٹہنی) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا (تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3682]
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” راستے میں ایک درخت کی شاخ (ٹہنی) پڑی ہوئی تھی جس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی، ایک شخص نے اسے ہٹا دیا (تاکہ مسافروں اور گزرنے والوں کو تکلیف نہ ہو) اسی وجہ سے وہ جنت میں داخل کر دیا گیا۔“ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3682]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: (1)
لوگوں کو تکلیف اور نقصان سے بچانا اللہ تعالی ٰ کو بہت پسند ہے۔
(2)
عوام کو فائدہ پہنچانے والا معمولی عمل بھی جنت میں داخلے کا باعث بن سکتا ہے۔
(3)
ناجائز تجاوزات کےذریعے سے راستہ تنگ کرنا، یا بند کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
عام طور پر شادی بیاہ کے موقعوں پر راستہ بند کر کے تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
یہ اللہ کے غضب کا باعث ہے۔
(4)
کوڑا کرکٹ راستے میں پھینکنا، یا وہاں قضائے حاجت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
سایہ دار درخت کے نیچے جہاں لوگ بیٹھتے ہوں اور راستے میں پیشاب پاخانہ کرنے والے پر لعنت پڑتی ہے۔
فوائد ومسائل: (1)
لوگوں کو تکلیف اور نقصان سے بچانا اللہ تعالی ٰ کو بہت پسند ہے۔
(2)
عوام کو فائدہ پہنچانے والا معمولی عمل بھی جنت میں داخلے کا باعث بن سکتا ہے۔
(3)
ناجائز تجاوزات کےذریعے سے راستہ تنگ کرنا، یا بند کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
عام طور پر شادی بیاہ کے موقعوں پر راستہ بند کر کے تقریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔
یہ اللہ کے غضب کا باعث ہے۔
(4)
کوڑا کرکٹ راستے میں پھینکنا، یا وہاں قضائے حاجت کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
سایہ دار درخت کے نیچے جہاں لوگ بیٹھتے ہوں اور راستے میں پیشاب پاخانہ کرنے والے پر لعنت پڑتی ہے۔
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3682 سے ماخوذ ہے۔
موضوع سے متعلق حدیث: صحيح مسلم / حدیث: 1914 کی شرح از مولانا عبد العزیز علوی ✍️
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، کہ آپ نے فرمایا:"میں نے جنت میں ایک آدمی کوایک درخت راستہ پشت سےکاٹنے کے سبب چلتے ہوئے دیکھا وہ درخت لوگوں کو تکلیف پہنچا رہا تھا۔" [صحيح مسلم، حديث نمبر:6671]
حدیث حاشیہ: فوائد ومسائل: گزشتہ روایات میں ایک شاخ کاٹنے کا ذکر ہے اور یہاں درخت کہا گیا ہے، کیونکہ وہ شاخ درخت سے راستہ پر گزرنے والوں کو لگتی تھی، اس کے کاٹنے کو درخت کے کاٹنے سے تعبیر کر دیا، کیونکہ وہ درخت کا حصہ تھی۔
درج بالا اقتباس تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1914 سے ماخوذ ہے۔