حدیث نمبر: 3680
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ , حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَلْبِيُّ , حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْأَنْصَارِيُّ , عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ , عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ , قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ عَالَ ثَلَاثَةً مِنَ الْأَيْتَامِ , كَانَ كَمَنْ قَامَ لَيْلَهُ , وَصَامَ نَهَارَهُ , وَغَدَا وَرَاحَ شَاهِرًا سَيْفَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ , وَكُنْتُ أَنَا وَهُوَ فِي الْجَنَّةِ أَخَوَيْنِ كَهَاتَيْنِ أُخْتَانِ " , وَأَلْصَقَ إِصْبَعَيْهِ السَّبَّابَةَ وَالْوُسْطَى .
ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
´عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ` رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ رات میں تہجد پڑھتا رہا ، دن میں روزے رکھتا رہا ، اور صبح و شام تلوار لے کر جہاد کرتا رہا ، میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہو کر رہیں گے جیسے یہ دونوں بہنیں ہیں ، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملایا ( اور دکھایا ) ۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ مولانا عطا اللہ ساجد
´یتیم کے حق کا بیان۔`
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ رات میں تہجد پڑھتا رہا، دن میں روزے رکھتا رہا، اور صبح و شام تلوار لے کر جہاد کرتا رہا، میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہو کر رہیں گے جیسے یہ دونوں بہنیں ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملایا (اور دکھایا)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3680]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جس شخص نے تین یتیموں کی پرورش کی تو وہ ایسا ہی ہے جیسے وہ رات میں تہجد پڑھتا رہا، دن میں روزے رکھتا رہا، اور صبح و شام تلوار لے کر جہاد کرتا رہا، میں اور وہ شخص جنت میں اس طرح بھائی بھائی ہو کر رہیں گے جیسے یہ دونوں بہنیں ہیں، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے درمیانی اور شہادت کی انگلی کو ملایا (اور دکھایا)۔ [سنن ابن ماجه/كتاب الأدب/حدیث: 3680]
اردو حاشہ:
فوائد ومسائل: مذکورہ روایت توسنداً ضعیف ہے تاہم یتیم کی کفالت کے بارے میں یہ ارشاد نبوی صحیح سند سے مروی ہے۔
اپنے (رشتہ دار)
یا بیگانے یتیم کی کفالت کرنے والااور میں جنت مین ان (دو انگلیوں)
کی طرح ہوں گے۔ (یہ فرماتے وقت راوی نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا)
۔ (صحيح مسلم، الزاهد، باب فضل الإحسان إلى الأرملة والمسكين واليتيم حديث: 2983)
فوائد ومسائل: مذکورہ روایت توسنداً ضعیف ہے تاہم یتیم کی کفالت کے بارے میں یہ ارشاد نبوی صحیح سند سے مروی ہے۔
اپنے (رشتہ دار)
یا بیگانے یتیم کی کفالت کرنے والااور میں جنت مین ان (دو انگلیوں)
کی طرح ہوں گے۔ (یہ فرماتے وقت راوی نے انگشت شہادت اور درمیانی انگلی سے اشارہ فرمایا)
۔ (صحيح مسلم، الزاهد، باب فضل الإحسان إلى الأرملة والمسكين واليتيم حديث: 2983)
درج بالا اقتباس سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 3680 سے ماخوذ ہے۔